داد دل مجرد جاں اے شوق ستم گر دے — Arif Aurangabadi
"داد دل مجرد جاں اے شوق ستم گر دے اس گل کو صبا جاکر یہ عرض مکرر دے اس وصل کی آتش کو کوئی دیکھ کے ٹھہرے ہیں پرواز نمن اڑ کر رہتے نہیں وہ سردے آئی ہے بہار اب تو صیاد ہے بے تابی جا دیکھیں گلستاں کو گر کھول ہمیں پردے ہنگام جوانی کی پوچھو نہ یہ سرگرمی بہتر جو گزرتی ہے ہر دم بدم سردے اے زاہد ہرجائی مت منع محبت کر یہ بار نہیں ایسا جو سرمستی کو دھر دے ہے نشہ ان آنکھوں سے کیوں کر نہ خمار اترے مینائے دل اے ساقی خالی ہے اگر بھردے جب دل کو دیا تو نے یوں مفت میں اے عارفؔ گر یار ترا چاہے چل جی کو نذر کردے"
داد دل مجرد جاں اے شوق ستم گر دے اس گل کو صبا جاکر یہ عرض مکرر دے اس وصل کی آتش کو کوئی دیکھ کے ٹھہرے ہیں پرواز نمن اڑ کر رہتے نہیں وہ سردے آئی ہے بہار اب تو صیاد ہے بے تابی جا دیکھیں گلستاں کو گر کھول ہمیں پردے ہنگام جوانی کی پوچھو نہ یہ سرگرمی بہتر جو گزرتی ہے ہر دم بدم سردے اے زاہد ہرجائی مت منع محبت کر یہ بار نہیں ایسا جو سرمستی کو دھر دے ہے نشہ ان آنکھوں سے کیوں کر نہ خمار اترے مینائے دل اے ساقی خالی ہے اگر بھردے جب دل کو دیا تو نے یوں مفت میں اے عارفؔ گر یار ترا چاہے چل جی کو نذر کردے
داد دل مجرد جاں اے شوق ستم گر دے اس گل کو صبا جاکر یہ عرض مکرر دے اس وصل کی آتش کو کوئی دیکھ کے ٹھہرے ہیں پرواز نمن اڑ کر رہتے نہیں وہ سردے آئی ہے بہار اب تو صیاد ہے بے تابی جا دیکھیں گلستاں کو گر کھول ہمیں پردے ہنگام جوانی کی پوچھو نہ یہ سرگرمی بہتر جو گزرتی ہے ہر دم بدم سردے اے زاہد ہرجائی مت منع محبت کر یہ بار نہیں ایسا جو سرمستی کو دھر دے ہے نشہ ان آنکھوں سے کیوں کر نہ خمار اترے مینائے دل اے ساقی خالی ہے اگر بھردے جب دل کو دیا تو نے یوں مفت میں اے عارفؔ گر یار ترا چاہے چل جی کو نذر کردے