SHAWORDS

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر — Allama Iqbal

HomeAllama IqbalGhazal
"پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر"
Urdu

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر

Hindi

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر
Allama Iqbal
Allama Iqbal
علامہ اقبال
poet1877–1938249 quotes

Sir Muhammad Iqbal was a philosopher, poet, and politician whose poetry revolves around self-realisation and the ideal of a perfect human being.

About Allama Iqbal

Sir Muhammad Iqbal was a philosopher, poet, and politician whose poetry revolves around self-realisation and the ideal of a perfect human being.

1877–1938

View all quotes by Allama Iqbal