پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر — Allama Iqbal
"پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر"
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر
پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائي کر چشم مہر و مہ و انجم کو تماشائي کر تو جو بجلي ہے تو يہ چشمک پنہاں کب تک بے حجابانہ مرے دل سے شناسائي کر نفس گرم کي تاثير ہے اعجاز حيات تيرے سينے ميں اگر ہے تو مسيحائي کر کب تلک طور پہ دريوزہ گرمي مثل کليم اپني ہستي سے عياں شعلہ سينائي کر ہو تري خاک کے ہر ذرے سے تعمير حرم دل کو بيگانہ انداز کليسائي کر اس گلستاں ميں نہيں حد سے گزرنا اچھا ناز بھي کر تو بہ اندازئہ رعنائي کر پہلے خوددار تو مانند سکندر ہو لے پھر جہاں ميں ہوس شوکت دارائي کر مل ہي جائے گي کبھي منزل ليلي اقبال! کوئي دن اور ابھي باديہ پيمائي کر

Sir Muhammad Iqbal was a philosopher, poet, and politician whose poetry revolves around self-realisation and the ideal of a perfect human being.
Sir Muhammad Iqbal was a philosopher, poet, and politician whose poetry revolves around self-realisation and the ideal of a perfect human being.
1877–1938
View all quotes by Allama Iqbal