Aabida Urooj
آندھیاں غم کی چلیں اور کرب بادل چھا گئے تجھ سے کیسے ہو ملن سب راستے دھندلا گئے کرچی کرچی خواہشیں آنکھوں میں چبھ کر رہ گئیں زرد موسم آس کی ہریالیوں کو کھا گئے میں کہ جس نے ہر صعوبت مسکرا کر جھیل لی منزلیں آئیں تو کیوں آنکھوں میں آنسو آ گئے تیرے نا آنے کے دکھ میں شدتیں پھولوں نے کیں وقت سے پہلے ہی سب گجرے مرے مرجھا گئے قحط جذبوں کا پڑا ویراں سے ہیں دل کے نگر شہر پر آسیب شاید ہجر کے منڈلا گئے دعویٰ چاہت کا نہیں پر جب اسے سوچا عروجؔ پھول خوشبو رنگ تارے آنکھ میں لہرا گئے
aandhiyaan gham ki chalin aur karb-baadal chhaa gae
41 views