SHAWORDS
A

Aafaq Banarasi

Aafaq Banarasi

Aafaq Banarasi

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

دئے اس نے اوروں کو ساغر پہ ساغر چبھوئے مرے دل میں نشتر پہ نشتر مریض محبت کی ہے اب یہ حالت کہ آتے ہیں ہر وقت چکر پہ چکر مری سخت جانی غضب رنگ لائی ہوئے کند قاتل کے خنجر پہ خنجر کرم ہے یہ ساقی کی دریا دلی کا ملے مجھ کو بھر بھر کے ساغر پہ ساغر چڑھاتے ہیں تیوری دکھاتے ہیں آنکھیں چبھوتے ہیں دل میں وہ نشتر پہ نشتر تری جستجو میں مہ و مہر دونوں لگاتے ہیں دن رات چکر پہ چکر مقابل ہوا ان کی چتون سے جب دل پڑے تیر پر تیر خنجر پہ خنجر نگاہوں نے دل میں چبھوئی ہیں چھریاں اداؤں نے مارے ہیں خنجر پہ خنجر نہ سرکا سر اس در سے آفاقؔ ہرگز لگا کر اسے لاکھ ٹھوکر پہ ٹھوکر

diye us ne auron ko saaghar pe saaghar

41 views

غزل · Ghazal

دکھا کر مجھ کو چشم مست مستانہ بنا ڈالا پلا کر آج ساقی تو نے دیوانہ بنا ڈالا قیام یاد خوباں کو ترقی دے خدا اس نے مرے اجڑے ہوئے دل کو پری خانہ بنا ڈالا دل صد چاک میرا تھا بھلا کس کام کے قابل مگر اک شوخ نے لے کر اسے شانا بنا ڈالا ضرر پہنچا نہ مے خانے کو کچھ سنگ حوادث سے اگر ٹوٹی کوئی بوتل تو پیمانہ بنا ڈالا غضب جادو بھری ہوتی ہیں آنکھیں حسن والوں کی نظر جس سے ملائی اس کو دیوانہ بنا ڈالا تمنا وصل کی دل سے جو نکلی یہ خیال آیا کہ اک آباد گھر کو ہائے ویرانہ بنا ڈالا وہ میکش ہوں کہ ہر دم شیشہ و ساغر ہے ساتھ اپنے جہاں بیٹھا وہیں پر ایک مے خانہ بنا ڈالا خیال بادہ نوشی فرقت ساقی میں جب آیا بنایا دل کو خم آنکھوں کو پیمانہ بنا ڈالا خدا کے فضل سے آفاقؔ تھا فرزانہ و عاقل نوازش کی بتوں نے اس کو دیوانہ بنا ڈالا

dikhaa kar mujh ko chashm-e-mast mastaana banaa Daalaa

41 views

غزل · Ghazal

چبھے جب دل میں خار عشق پھر کمتر نکلتے ہیں نکلتے ہیں اگر تو جان ہی لے کر نکلتے ہیں ترے ناوک جو سینے میں کبھی چبھ کر نکلتے ہیں تو بن کر خون ارمان دل مضطر نکلتے ہیں کدھر کا قصد ہے کس کا مقدر آج جاگا ہے طلب ہوتا ہے شانہ آئینہ زیور نکلتے ہیں تمہارا تیر رستہ روک کر سینے میں بیٹھا ہے جو نالے بھی نکلتے ہیں تو رک رک کر نکلتے ہیں وہ کہتے ہیں اجل ہوتی ہے جس کی ہم پہ مرتا ہے قضا آتی ہے جب چیونٹی کی اس کے پر نکلتے ہیں حسینوں کو جو دیکھو شکل کیسی بھولی ہوتی ہے ٹٹولو دل اگر ان کے تو وہ پتھر نکلتے ہیں لگا دی گرمئ الفت نے کیسی آگ سینے میں کہ آنکھوں سے جو آنسو کی جگہ اخگر نکلتے ہیں کوئی دیکھے ذرا آفاقؔ کی اس وقت کیفیت کبھی حضرت جو صہبائے سخن پی کر نکلتے ہیں

chubhe jab dil mein khaar-e-‘ishq phir kamtar nikalte hain

41 views

Similar Poets