
Aamir Azher
Aamir Azher
Aamir Azher
Ghazalغزل
لگ رہا تھا یہیں کہیں ہو تم کاش ہوتے مگر نہیں ہو تم صرف بارش میں وصل ممکن ہے آسماں میں ہوں اور زمیں ہو تم دور سے بھی ہو دل نشیں لیکن سامنے کس قدر حسیں ہو تم کب سے مجھ کو نہیں ملے دیکھو یار کیا زیر آستیں ہو تم جس جگہ تھا میں پھر وہیں ہوں میں جس جگہ تھا میں کیا وہیں ہو تم
lag rahaa thaa yahin kahin ho tum
41 views
ناروا ثبت کیا کن کا اشارہ کر کے دیکھنا ہے یہ تماشا بھی دوبارہ کر کے حق پسندی نے کہاں چین دلوں کو بخشا لوگ امید پہ آئے تھے سہارا کر کے مصلحت پا کے مؤرخ نے کیا دفن اسے لوگ خوش تھے انہیں یادوں پہ گزارا کر کے چند تاجر ہیں کچھ عاشق ہیں اور اک دو شاعر دل کے بازار میں بیٹھے ہیں خسارہ کر کے اک لقب دے کے اسے نام و نشاں چھین لیا عشق کا قیس نے یہ نقش ابھارا کر کے کب لکھے سے ہی ہوا کوئی کسی کا عامرؔ آپ خود کے بھی ہوئے خود کو گوارہ کر کے
naaravaa sabt kiyaa kun kaa ishaara kar ke
41 views
ٹھہرا نہ کچھ یہاں پہ جو آیا وہ بک گیا بازار میں بس ایک خریدار ٹک گیا اک دو منٹ ہی آنکھ لگی ہوگی میری بس کیا بے قرار خواب تھا اتنے میں دکھ گیا دیکھا وہ بند راستہ آگے کھلا ملا جو جیتے جی نہ دیکھا وہ مرنے پہ دکھ گیا عامرؔ تمہارے شعر پہ ہونے لگی ہے بات کچھ تم کو بھی شعور ہے کیا تم سے لکھ گیا
Thahraa na kuchh yahaan pe jo aayaa vo bik gayaa
41 views
بدن اتار کے کپڑے بدل رہا ہے کوئی نئی سرشت پہن کر نکل رہا ہے کوئی قدم قدم پہ اندھیرا بھی بڑھتا جاتا ہے گمان ہوتا ہے پیچھے بھی چل رہا ہے کوئی یقین ہی نہیں آتا وہ کیسے بول پڑا مرا خیال تھا بس وہم پل رہا ہے کوئی بڑا گمان ہے وعدوں پہ ٹال رکھا ہے حضور آپ کے ٹالے سے ٹل رہا ہے کوئی میں اپنی ذات میں اترا تو میں نے یہ دیکھا بہت خموشی سے باہر نکل رہا ہے کوئی تماشہ آدھا ادھورا ہے دیکھیے عامرؔ تصورات کو آنکھوں پہ مل رہا ہے کوئی
badan utaar ke kapDe badal rahaa hai koi
41 views
ابھی قبول ہے مجھ کو اداس ہو جانا ابھی نصیب ہے قدموں میں ان کے سو جانا کسی کتاب سے کیسے کوئی نکلتا ہے کسی کتاب سے ٹوٹا گلاب تو جانا تری شبیہ میں دیکھا جہاں میں جو دیکھا تری مثال سے جانا جہاں میں جو جانا زمانہ ایک میں تحلیل کر رہا ہے مگر ہمیشہ میں نے سفید و سیہ کو دو جانا یہ کس کے اشک پڑے ہیں یہ قبر کس کی ہے یہ کون روک رہا ہے کسی کا کھو جانا یہ کتنی مرتبہ کتنوں کے ساتھ ہوتا ہے نکل کر ایک سفر پر سفر کا ہو جانا بلا کے شعر تھے عامرؔ بلا کا شور بھی تھا بلا کا شہر تھا جس نے نہ آپ کو جانا
abhi qubul hai mujh ko udaas ho jaanaa
41 views
نہ ثبات ہے نہ دوام ہے خم زندگی ہے سو خام ہے ہمیں موسموں سے امید کیا ہمیں روز روز کا کام ہے تجھے راستوں کا پتہ نہ تھا ترے حوصلوں کو سلام ہے نہ یہ سرد ہو نہ یہ ختم ہو مری تشنگی مرا جام ہے میں یہ پوچھتا ہوا چل دیا کوئی کام ہے کوئی کام ہے مجھے عامرؔ آپ سے کیا غرض یہ کلام سب کا کلام ہے
na sabaat hai na davaam hai
41 views





