SHAWORDS
Aarif Akhtar Naqvi

Aarif Akhtar Naqvi

Aarif Akhtar Naqvi

Aarif Akhtar Naqvi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

tilism-e-hosh-rubaa hai kamaal rakhtaa hai

طلسم ہوش ربا ہے کمال رکھتا ہے بدن سے عشق نہ کرنا زوال رکھتا ہے کہیں کا رہنے نہ دے گا ہمیں یہ ذہن رسا جواب جن کے نہیں وہ سوال رکھتا ہے خرد سے تھک کے ہم آتے ہیں دل کے دامن میں یہ غم گسار ہمارا خیال رکھتا ہے گرا ہے اپنی ہی نظروں میں جانے کتنی بار وہی جو آج عروج و کمال رکھتا ہے ثبوت زندہ دلی ہے خدا کا شکر عارفؔ یہ دل جو اب بھی امید وصال رکھتا ہے

غزل · Ghazal

aaj bhi yaad-e-yaar baaqi hai

آج بھی یاد یار باقی ہے عشق کا اعتبار باقی ہے زندگی کی رمق ہے ہم میں ابھی آپ کا انتظار باقی ہے یادگار جنوں ہمارے پاس دامن تار تار باقی ہے پھر رہے ہیں صلیب اٹھائے ہم ہاں ابھی وصل دار باقی ہے یہ امیدیں نہ چھین لیں حالات بس یہی اختیار باقی ہے لفظ و معنی کی وسعتوں کے ساتھ شعر کا اختصار باقی ہے مرحبا عشاقان حق تم سے کچھ امید بہار باقی ہے

غزل · Ghazal

haae kis darja be-makaan huun main

ہائے کس درجہ بے مکان ہوں میں دو زمانوں کے درمیان ہوں میں جو لکھی جا رہی ہے کل کے لئے وہ ادھوری سی داستان ہوں میں جس کی قیمت نہیں ہے اب کوئی اس روایت کا پاسبان ہوں میں آئینہ دیکھ کر یہ سوچتا ہوں کچھ حقیقت ہوں کہ گمان ہوں میں زندگی اب تو مجھ کو جانے دے کب سے مصروف امتحان ہوں میں گیت گائے تھے جس کی الفت کے اسی نگری میں بے امان ہوں میں جیت آخر میں حق کی ہونا ہے ہاں ابھی اتنا خوش گمان ہوں میں

غزل · Ghazal

ravish-e-asr se inkaar bahut mushkil hai

روش عصر سے انکار بہت مشکل ہے کرب احساس کا اظہار بہت مشکل ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ میں بولوں ہوں آواز ان کی اف یہ مجبوریٔ گفتار بہت مشکل ہے ہم سے دیوانے کہاں تاب و تپش سے ٹھہرے ڈھونڈھ لیں سایۂ دیوار بہت مشکل ہے مرا دشمن مرے اندر ہی چھپا ہے اور میں خود سے ہوں بر سر پیکار بہت مشکل ہے آہ کرنے کی اجازت نہیں اس شہر میں اب اور اک یہ دل بیمار بہت مشکل ہے

غزل · Ghazal

ahd-e-ulfat mein ye khadsha kab thaa

عہد الفت میں یہ خدشہ کب تھا تم سے بچھڑیں گے یہ سوچا کب تھا رات آئینہ جو دیکھا تو لگا اتنا ویراں میرا چہرہ کب تھا مجھ پہ الزام لگانے والے تو مجھے ٹھیک سے سمجھا کب تھا یاد آئیں گی وہ رم جھم آنکھیں گھر سے چلتے ہوئے سوچا کب تھا اس کو نزدیک سے دیکھا عارفؔ آج جیسا ہے کل ایسا کب تھا

غزل · Ghazal

kuchh nai ham pe guzar jaae to phir sher kahein

کچھ نئی ہم پہ گزر جائے تو پھر شعر کہیں بھولی بصری کوئی یاد آئے تو پھر شعر کہیں زندگی ہم کو لگے پھر سے جو انجانی سی اور گیا وقت پلٹ آئے تو پھر شعر کہیں کوئی اڑتا ہوا آنچل کوئی بکھری ہوئی زلف شعر کہنے کو جو اکسائے تو پھر شعر کہیں فکر فردا غم ایام کا چھایا ہے غبار ذہن سے دھند یہ چھٹ جائے تو پھر شعر کہیں کرب احساس کا اظہار ہے مقصود غزل درد لفظوں میں سمٹ آئے تو پھر شعر کہیں

Similar Poets