SHAWORDS
A

Aarif Dehelwi

Aarif Dehelwi

Aarif Dehelwi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

آشنا مجھے سے ہر اک حور جناں پہلے سے ہے جنتی ہوں میرا جنت میں مکاں پہلے سے ہے آگ سینے میں محبت کی نہاں پہلے سے ہے گو نظر آتا نہیں لیکن دھواں پہلے سے ہے سینکڑوں موجود ہیں مشتاق دید روئے دوست ان کی محفل میں ہجوم عاشقاں پہلے سے ہے کیا دکھاؤں میں اسے اپنا کلیجہ چیر کر کب یقیں آئے گا اس کو بد گماں پہلے سے ہے تیرا وحشی کیا کرے گا اپنا دامن تار تار جوش وحشت میں گریباں دھجیاں پہلے سے ہے یوں مجھے ٹکتے نہ دیتا فصل گل میں باغباں وہ تو یوں کہیے چمن میں آشیاں پہلے سے ہے دیکھتی ہے چار تنکے بھی کڑک کر غور سے آشیاں کی فکر میں برق تپاں پہلے سے ہے درد کی شدت ہے دل میں یا الٰہی خیر ہو ابتدائے عشق ہے یا امتحاں پہلے سے ہے بزم میں عارفؔ کی کیوں ہوتی ہے یہ آؤ بھگت غالباً اس پر نگاہ دوستاں پہلے سے ہے

aashnaa mujhe se har ik hur-e-jinaan pahle se hai

41 views

غزل · Ghazal

مجھے دو جام دینا یہ اشارہ کر دیا دو ہیں اٹھا کر انگلیاں دو میں نے ساقی سے کہا دو ہیں ابھی بھر جائے گا اک ایک کر کے سارا مے خانہ ابھی تو بھیڑ کم ہے لا پلا دے ساقیا دو ہیں خدا کو مانتا ہے اور کوئی بت پرستی کو ہے منزل ایک لیکن راستے اس کے جدا دو ہیں نجومی نے بتایا ہے بلا کا سامنا مجھ کو شرارت سے وہ میرے کان میں کہنے لگا دو ہیں مریض عشق ہوں میں یعنی اک میں اک مرا دل ہے نہیں ہے تیسرا کوئی ابھی درد آشنا دو ہیں سر راہ گزر احساس تنہائی ہوا مجھ کو چمک کر میری پرچھائی نے مجھ سے کہہ دیا دو ہیں مکمل فرد عصیاں پیش کرنی ہے قیامت میں ہمارے دونوں کاندھوں پر نمائندہ خدا دو ہیں الہی منزل مقصود پر میں خیر سے پہنچوں بڑی مشکل یہ ہے راہ طلب میں رہنما دو ہیں کسی نے جب کہا عارفؔ ترا ساتھی نہیں کوئی مرا ہمزاد بولا ایک میں ہوں اب بتا دو ہیں

mujhe do jaam denaa ye ishaara kar diyaa do hain

41 views

غزل · Ghazal

پہنچے جو منزل مقصود پہ پکے نکلے رہ گئے وہ جو تری راہ میں کچے نکلے دیکھ کر مجھ کو عدو بزم سے پھوٹے نکلے جن کو میٹھا میں سمجھتا رہا کڑوے نکلے بھیڑ میں اب غم دنیا کے پھنسا ہوں میں بھی میں بھی نکلوں گا کوئی اور تو سرکے نکلے نا خدا نے تو پھنسا دی تھی بھنور میں کشتی نام جب ہم نے خدا کا لیا کیسے نکلے یہ ملا مجھ کو مری دشت نوردی کا صلہ مدتوں بعد مرے پاؤں سے کانٹے نکلے پھر وہ جاتے ہیں بہت دور کسی اور طرف تیرے عاشق وہ جو بت خانے سے نکلے نکلے توبہ کرتے رہے پیتے بھی رہے ہاتھ کے ہاتھ بادہ کش ساقیا میخانے کے سرتے نکلے سب سے آگے تھے جو کل اف رے تغیر کہ وہی آج دنیا کی ہر اک دوڑ میں پیچھے نکلے نقص عارفؔ تھا پرکھ میں کہ حقیقت تھی یہی جس قدر سکے کھرے دیکھے تھے کھوٹے نکلے

pahunche jo manzil-e-maqsud pe pakke nikle

41 views

غزل · Ghazal

ہاں یہ سچ ہے کہ وہ ہر دل میں مکیں ہوتا ہے یہ غلط ہے کہ وہ ہوتا ہی نہیں ہوتا ہے تیرا ہی حسن نمایاں ہے ہر اک انساں میں ہر بشر میں ترے ہونے کا یقین ہوتا ہے اور بڑھ جاتا ہے کچھ شوق طلب رہرو کا جب مسافر کوئی منزل کے قریب ہوتا ہے حسن کیا چیز ہے نظروں کا فریب رنگیں دیکھیے شوق سے جس کو وہ حسیں ہوتا ہے چپکے چپکے جو ہوا کرتی ہیں دل سے باتیں دل کے پردے میں کوئی پردہ نشیں ہوتا ہے اس کے دیدار کا ہر شخص طلب گار نہ ہو سامنے سب کے کوئی پردہ نہیں ہوتا ہے جیسے مرجھائی ہوئی سی ہو کلی گلشن میں عشق میں ایسا ہر اک قلب حزیں ہوتا ہے منہ سے اقرار کرو ہاں تو کہو بولو تو وصل کا وعدہ اشاروں سے نہیں ہوتا ہے شاہ بھی ہیں اسی دنیا میں گدا بھی عارفؔ کوئی سائل تو کوئی تخت نشیں ہوتا ہے

haan ye sach hai ki vo har dil mein makin hotaa hai

41 views

Similar Poets