Aarif
تبدیلیٔ ماحول تو دشوار نہیں ہے لیکن دل انساں ابھی بیدار نہیں ہے صہبائے محبت سے جو سرشار نہیں ہے کچھ اور اسے کہیے وہ مے خوار نہیں ہے اے دست جنوں اب تو سکوں مل گیا تجھ کو اب تو مرے دامن میں کوئی تار نہیں ہے کچھ دیر ذرا اور ٹھہر اے غم جاناں تو ہے تو غم زیست گراں بار نہیں ہے دل انجمن عیش سے بیزار ہے لیکن دنیائے غم عشق سے بیزار نہیں ہے ڈرتا ہوں کہ یہ رسم کہیں عام نہ ہو جائے ورنہ مجھے خوف رسن و دار نہیں ہے ان مست نگاہوں سے جو پیتا ہے وہ مے خوار ساقی کی توجہ کا طلب گار نہیں ہے ہم اور غم عشق کا شکوہ ارے توبہ ارباب محبت کا یہ معیار نہیں ہے جام مئے عرفاں کا طلب گار ہے عارفؔ جامے مئے رنگیں کا پرستار نہیں ہے
tabdili-e-maahaul to dushvaar nahin hai
41 views