
Aarif Zaman
Aarif Zaman
Aarif Zaman
Ghazalغزل
میری کوشش کا ثمر ہے مختلف پیار کا اس پر اثر ہے مختلف ساری دنیا میں نہیں اس کی مثال سب سے وہ رشک قمر ہے مختلف دل مرا تسکین پاتا ہے یہاں میرے گھر سے تیرا گھر ہے مختلف اس کو بھاتی ہیں خطائیں بھی مری ماں کا انداز نظر ہے مختلف مجھ سے اکثر متفق ہوتا تو ہے کیا ہوا مجھ سے اگر ہے مختلف ہو گئی دشوار راہ زندگی مجھ سے میرا ہم سفر ہے مختلف مطمئن ہے رنج و غم میں بھی زماں در حقیقت وہ بشر ہے مختلف
meri koshish kaa samar hai mukhtalif
41 views
مہر تاباں ہوں ڈھل رہا ہوں میں وقت کے ساتھ چل رہا ہوں میں فضل رب سے ہوا موافق ہے بجھنے والا تھا جل رہا ہوں میں میرا محبوب شاخ گل جیسا سوچ کر ہی مچل رہا ہوں میں اس کو پانا بہت کٹھن تھا مگر اس مشن میں سپھل رہا ہوں میں قدر کی جائے میرے شعروں کی لوگو موتی اگل رہا ہوں میں اک طرف رکھ دیا ہے اپنا مزاج حسب موسم بدل رہا ہوں میں رہ گزر عشق کی ارے توبہ جیسے شعلوں پہ چل ہا ہوں میں لوگ مر جاتے ہیں زماںؔ ان میں جن مسائل میں پل رہا ہوں میں
mahr-e-taabaan huun Dhal rahaa huun main
41 views
شور اس کے مکاں سے اٹھتا ہے کیا وہ مفلس جہاں سے اٹھتا ہے شک تعلق خراب کرتا ہے فتنہ وہم و گماں سے اٹھتا ہے دم میں بجھ جاتی ہے صف ماتم تو اگر درمیاں سے اٹھتا ہے دنیا جھوٹوں میں بٹ گئی دیکھیں نعرۂ حق کہاں سے اٹھتا ہے شہر میں کس طرف لگی ہے آگ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے دود انسانیت کی خوشبو کا پیاری اردو زباں سے اٹھتا ہے عشق میں آدمی زماںؔ اوپر فکر سود و زیاں سے اٹھتا ہے
shor us ke makaan se uThtaa hai
41 views
راہ منزل کی مسافر کو سجھاتے ہیں چراغ روشنی کر کے اندھیروں کو مٹاتے ہیں چراغ جن کی آنکھیں نہیں ان کے لئے بے فیض مگر آنکھ والوں کے بہت کام بناتے ہیں چراغ دن نکلتا ہے تو ہو جاتے ہیں یہ بے وقعت ظلمت شب میں مگر رنگ جماتے ہیں چراغ یاد کرتا ہوں میں اس رشک قمر کو ایسے جس طرح لوگ اندھیرے میں جلاتے ہیں چراغ ڈر کے تاریکی سے جو ترک سفر کرتا ہے حوصلہ ایسے مسافر کا بڑھاتے ہیں چراغ چین سے بیٹھنا لوگوں کو کہاں آتا ہے خود نہیں رکھتے تو اوروں کے بجھاتے ہیں چراغ درس دیتے ہیں محبت کا زماںؔ کو اکثر لوگ نادان ہیں سورج کو دکھاتے ہیں چراغ
raah manzil ki musaafir ko sujhaate hain charaagh
41 views





