
Aarij Meer
Aarij Meer
Aarij Meer
Ghazalغزل
بدن پہ گھاس ہری قرب کی اگاتا ہے یہ نیل روز نئے سامری بلاتا ہے ہماری پیاس بھی ہے بھید کھولنے والی وہ پانیوں کو سیہ ریت میں چھپاتا ہے ہرن کی آنکھ میں پھیلا ہرا بھرا جنگل دمکتی دھوپ پہ کلکاریاں لگاتا ہے سکوں کی اور جھپٹتی ہیں بوڑھی چیلیں پھر نکیلی کرچیاں ہر راستہ اگاتا ہے گرفتیں خشک ہوئیں اور پھسلنیں شاداب شکستہ صورتیں ہر آئینہ دکھاتا ہے
badan pe ghaas hari qurb ki ugaataa hai
41 views
ہر گام پہ حالات سے اک نقش بنا ہے احساس مرا چاروں طرف پھیل گیا ہے میں بھی ہوں تہی دست خریداروں کی صف میں بستی میں مری مصر کا بازار لگا ہے چاہے گا بھلا کون ہو دیواروں کا قیدی تقدیر مگر بیر ہواؤں سے پڑا ہے برتے ہوئے الفاظ مرے شعر نہ چھوئیں حالات نئے ہیں مرا احساس نیا ہے موجیں مرے پاؤں سے دبی ریت نہ لے جائیں ارمان کے ساحل پہ کوئی سوچ رہا ہے ہر موڑ پہ میں خود سے ملا ہاتھ پسارے میں نے ہی مری سوچ پہ ہر وار کیا ہے
har gaam pe haalaat se ik naqsh banaa hai
41 views
بس گئی آ کے آنکھوں میں شام عدن جگمگاتے بدن رنگ رخ پیرہن سہمی سہمی کرن سبز اخلاق کی کھردرے پیڑ بے برگ ہلکی چبھن سرسراتی ہوئی ریت کرتی ہے چھیڑ کسمسانے لگے سیپیوں کے بدن خشک آوارہ پھرتا ہوا گرد باد منتشر راہ میں شور زاغ و زغن دھوپ رنگولیوں میں بھرے روشنی جگمگاتا ہوا آرزو کا چمن
bas gai aa ke aankhon mein shaam-e-adn
41 views
دھرتی کی زباں سوکھ گئی زرد ہوئی گھاس آکاش سے امسال اترتی ہے فقط پیاس آباد ہوئی شام کی رونق مرے گھر میں سڑکوں پہ بھٹکنا مجھے کیوں آئے گا اب راس ہاتھوں میں ہے فرصت کہ گتھا زیست کا لچھا یاروں کا سر شام ہوا لان پہ اجلاس اب جاؤں کہاں چھت سے ٹپکتی ہیں بلائیں اب کس کا بھروسا ہوا گھر گھر سے نہیں آس منظر ہیں سبھی میرے دل بینا پہ روشن غربت میں مرا شہر بھی ہوتا ہے مرے پاس
dharti ki zabaan suukh gai zard hui ghaas
41 views
صدیوں سے شب و روز یہی سوچ رہا ہوں میں کون خدا کون ہے میں بھول گیا ہوں ایسے میں امنگیں ہی ذرا ساز اٹھائیں دہلیز پہ پھر سے میں ارادوں کی کھڑا ہوں ہر چند بھٹکنا پڑا بازار میں برسوں ہر شکل کی تصویر مگر کھینچ چکا ہوں آئے نہ یقیں آئے کسی اور کو مجھ پر صحرائے خموشی میں بہت دیر پھرا ہوں عارجؔ کبھی اترا ہوں اندھیروں کے جگر میں سورج کے سمندر میں کبھی غرق ہوا ہوں
sadiyon se shab-o-roz yahi soch rahaa huun
41 views
اپنی باتوں کو تولنا ہوگا یعنی سورج کو بولنا ہوگا دھوپ کمرے میں یوں نہ آئے گی اٹھ کے دروازہ کھولنا ہوگا حادثے ہیں شکست آمادہ موت کو سر پہ ڈولنا ہوگا نقش بکھرا دئے ہوا نے سب ایک اک ذرہ رولنا ہوگا آنکھ والے سے یہ تقاضا ہے ایک اندھا ہوں بولنا ہوگا
apni baaton ko tolnaa hogaa
41 views





