
Aasnath Kanwal
Aasnath Kanwal
Aasnath Kanwal
Ghazalغزل
phir kisi haadse kaa dar khole
پھر کسی حادثے کا در کھولے پہلے پرواز کو وہ پر کھولے جیسے جنگل میں رات اتری ہو یوں اداسی ملی ہے سر کھولے پہلے تقدیر سے نمٹ آئے پھر وہ اپنے سبھی ہنر کھولے منزلوں نے وقار بخشا ہے راستے چل پڑے سفر کھولے جو سمجھتا ہے زندگی کے رموز موت کا در وہ بے خطر کھولے ہے کنولؔ خوف رائیگانی کا کیسے اس زندگی کا ڈر کھولے
us ki jhiil aankhon se duur tak main dekhungi
اس کی جھیل آنکھوں سے دور تک میں دیکھوں گی بے قرار تنہائی اشک بار خاموشی آج تیرے پہلو میں میں نے پھر سے دیکھی ہے اک جوان رعنائی دل فگار خاموشی اپنے قیمتی لمحے مجھ پہ وارنے والے تری قربتوں میں تھی بے شمار خاموشی ہم سفر نے رکھا تھا بھرم اپنے ہونے کا دل فریب سرگوشی بے قرار خاموشی کاش تیری آنکھوں میں خود کو دیکھ پاتی میں پھر نہ گھر کنولؔ کرتی سوگوار خاموشی
kabhi pukaar ke dekhaa kabhi bulaae to
کبھی پکار کے دیکھا کبھی بلائے تو حدود ذات سے آگے نکل کے آئے تو پلا رہا ہے نگاہوں کو تیرگی کا لہو فصیل جاں پہ وہ کوئی دیا جلائے تو سجائے رکھوں گی اپنے گمان کی دنیا مرے یقین کی منزل پہ کوئی آئے تو یہ آنکھیں نیند کو ترسی ہوئی ہیں مدت سے وہ خواب زار شبستاں کوئی دکھائے تو غرور عشق کے آداب سیکھ جائے گا کبھی وہ روٹھ کے دیکھے کبھی منائے تو ہوا کی چاپ میں شامل ہیں آہٹیں اس کی سلیقہ دل کو دھڑکنے کا بھی سکھائے تو
intihaa hone se pahle soch le
انتہا ہونے سے پہلے سوچ لے بے وفا ہونے سے پہلے سوچ لے بندگی مجھ کو تو راس آ جائے گی تو خدا ہونے سے پہلے سوچ لے کاسۂ ہمت نہ خالی ہو کبھی تو گدا ہونے سے پہلے سوچ لے یہ محبت عمر بھر کا روگ ہے مبتلا ہونے سے پہلے سوچ لے بچ رہے کچھ تیرے میرے درمیاں فاصلہ ہونے سے پہلے سوچ لے زندگی اک ساز ہے لیکن کنولؔ بے صدا ہونے سے پہلے سوچ لے
kaaghaz qalam davaat ke andar ruk jaataa hai
کاغذ قلم دوات کے اندر رک جاتا ہے جو لمحہ اس ذات کے اندر رک جاتا ہے سورج دن بھر زہر اگلتا رہتا ہے چاند کا زعم بھی رات کے اندر رک جاتا ہے پہلے سانس جما دیتا ہے ہونٹوں پر پھر وہ اپنی گھات کے اندر رک جاتا ہے نکل نہیں سکتا دھرتی کا بنجر پن جو قطرہ برسات کے اندر رک جاتا ہے حرف کا دیپ ہوا سے کیسے الجھے گا یہ نقطہ ہر بات کے اندر رک جاتا ہے ہجر کا موسم خاموشی اور رات کا ڈر یادوں کی بارات کے اندر رک جاتا ہے
aisi kahaan utri hai koi shaam miri jaan
ایسی کہاں اتری ہے کوئی شام مری جان اشجار پہ لکھا ہے ترا نام میری جان کٹتے ہیں کہاں ایک سے دن رات یہ موسم ہے زیست بھی اک حسرت ناکام مری جان کھیتوں میں کہاں اگتے ہیں لفظوں کے مراسم حرفوں کی تجارت میں گئے نام مری جان مجھ کو نہیں پہنچی تری خوشبو تو کروں کیا بے شک تو رہے لالہ و گلفام مری جان ہر گام تعلق کی صلیبوں پہ چڑھے ہیں چھٹتا ہی نہیں ذات کا ہنگام مری جان مٹ جائیں گے سب رنج و الم قرب سے تیرے بھیجا ہے تجھے پیار کا پیغام مری جان پلکوں پہ دھرے خوابوں کے لاشے نہ اٹھانا ہے آس یہی عشق کا انجام مری جان





