
Aatish Raza
Aatish Raza
Aatish Raza
Ghazalغزل
کہیں پہ دھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت قدم قدم پہ ہیں دنیا میں امتحان بہت مجھے سپرد تو لوگوں نے کر دیا اس کے مگر عزیز ہے قاتل کو میری جان بہت اگر یہ چاہے تو اک پل میں انقلاب آئے ہماری قوم میں ایسے ہیں نوجوان بہت مگر دراڑ نہ آنے دی میں نے رشتے میں بھرے ہیں لوگوں نے ویسے تو میرے کان بہت یہ دکھ ہے اس کو نہ شبنم فشانیاں سمجھو زمیں کے حال پہ رویا ہے آسمان بہت
kahin pe dhuup kahin par hain saaebaan bahut
41 views
تمہارے طنز کا ہر ایک تیر زندہ ہے کہ کھا کے زخم دل بے ضمیر زندہ ہے مجھے خریدنے والا یہ کہہ کے لوٹ گیا عجیب شخص ہے اب تک ضمیر زندہ ہے سنائی دیتی ہے زنجیر کی سدا اکثر ہماری ذات میں شاید اسیر زندہ ہے ہمارا عہد ڈھلے گا ہمارے شعروں میں ہماری سوچ کی جب تک لکیر زندہ ہے اٹھا کے دیکھ لو کوئی غزل مری آتشؔ ہر ایک فکر مری بے نظیر زندہ ہے
tumhaare tanz kaa har ek tiir zinda hai
41 views
حسین رخ پہ ابھی تم نقاب رہنے دو نہ کھولو بند غزل کی کتاب رہنے دو اٹھوں گا دیکھنا اک دن میں آندھیوں کی طرح ابھی کرو نہ سوال و جواب رہنے دو ہم اپنا فرض کسی روز بھول بیٹھیں نا ہمارے کاندھوں پہ کنبے کا داب رہنے دو ہر ایک چیز کی مجھ میں تمیز ہے بھائی تم اپنے پاس عذاب و ثواب رہنے دو میں اپنی پیاس کو صحرا نورد کر دوں گا مٹا دو سارے سمندر سراب رہنے دو تمہارے واسطے سایہ عذاب ہے آتشؔ تم اپنے سر پہ کھڑا آفتاب رہنے دو
hasin rukh pe abhi tum naqaab rahne do
41 views
نظر میں کچھ نہ تھی پہلے کبھی توقیر مٹی کی فرشتے دنگ ہیں اب دیکھ کے تقدیر مٹی کی ہزاروں نعمتیں دیتی ہیں لیکن ضرب سہ سہ کر خدا نے بھی بنائی ہے عجب تقدیر مٹی کی سنائی دے گی ظالم تجھ کو تب مجبور کی آہیں جکڑ لے گی ترے پیروں کو جب زنجیر مٹی کی کہ جیسے پیڑ کی ہر شاخ مجھ سے بات کرتی ہے کہ جیسے دیکھتا رہتا ہوں میں تاثیر مٹی کی عمارت کوہ و صحرا پیڑ دریا آدمی سارے زمیں پر بسنے والے ہیں مگر جاگیر مٹی کی تری پوجا کریں گے لوگ اک دن دیکھنا آتشؔ بنا کر اس نے رکھی ہے تری تصویر مٹی کی
nazar mein kuchh na thi pahle kabhi tauqir miTTi ki
41 views
کسی سے عشق مرا والہانہ ہوتے ہوئے میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے وہ ٹیلیفون کی گھنٹی یقیں دلاتی ہے مرے قریب ہے تو غائبانہ ہوتے ہوئے وہ نسل نو کے لئے دے گیا نیا فیشن میں جس لباس کو پہنوں پرانا ہوتے ہوئے مرا رقیب تھا جب تک مرے قریب رہا وہ مجھ سے دور ہے اب دوستانہ ہوتے ہوئے یہ لوگ مجھ کو محب وطن سمجھتے نہیں مری زبان پہ قومی ترانہ ہوتے ہوئے وہ کیسے نشے کا دل دادہ ہو گیا آتشؔ شریف جس کا مکمل گھرانا ہوتے ہوئے
kisi se ishq miraa vaalihaana hote hue
41 views
موت انسان کے جینے کا بدل ہوتی ہے زندگانی میں ہی پوشیدہ اجل ہوتی ہے اے مرے کاتب تقدیر ذرا یہ تو بتا تیری تحریر بھی کیا رد و بدل ہوتی ہے تم اگر چاہو تو وہ خون بھی دے سکتا ہے ایک مظلوم کی ہر بات اٹل ہوتی ہے شعر گوئی کی اذیت بھی اذیت ہے عجیب قوت فکر ہر اک شعر پہ شل ہوتی ہے خون جلتا ہے مرے جسم کا پہلے آتشؔ تب کہیں جا کے مری ایک غزل ہوتی ہے
maut insaan ke jiine kaa badal hoti hai
41 views





