Aazam Khursheed
Aazam Khursheed
Aazam Khursheed
Ghazalغزل
تیرے ہونٹوں پہ نظر باقی ہے کس کے ہونے کی خبر باقی ہے کتنے خوش رنگ بدن دھول ہوئے وقت کی چال مگر باقی ہے آج بھی غم کی سلامی کے لئے دل کا آباد نگر باقی ہے شب کی قندیل اٹھانے والے دیکھ چہروں پہ سحر باقی ہے درد کا چہرہ تھا برباد ہوا دشت میں سوکھا شجر باقی ہے خوں جواں خون سے ہولی کھیلو چند قدموں کا سفر باقی ہے
tere honTon pe nazar baaqi hai
41 views
سوچ دی ہے جواب بھی دے کچھ تو یا رب حساب بھی دے قطرہ قطرہ شراب برسے تھوڑا تھوڑا عذاب بھی دے چاہتوں کے تو سلسلے ہیں موسموں کا شباب بھی دے اک کنارا ہے دوسرا بھی پانیوں میں حباب بھی دے جس کے کانٹے بھی مجھ کو چومیں کوئی ایسا گلاب بھی دے دھوپ ہنستی ہے واہمے بھی تیرگی دے سراب بھی دے آگ بستی کا رہنے والا رنگ گردش سحاب بھی دے لمحے بھر میں ہزار خواہش بندہ پرور جواب بھی دے محبتوں کا عذاب جھیلوں نفرتوں کا ثواب بھی دے تیرا میرا حساب کیسا خواب ہوں اور خواب بھی دے کن تو میرا وجود ہے ہوں لفظ اتریں خطاب بھی دے میں پیمبر نہیں ہوں توبہ آنکھ دی ہے کتاب بھی دے میں تو اپنے طواف میں ہوں راہ خانہ خراب بھی دے
soch di hai javaab bhi de
41 views
کس سے دل بہلاؤں میں کس کے ناز اٹھاؤں میں نیند بھری ان آنکھوں میں خواب کہاں سے لاؤں میں میری باتیں تیری ہیں کون سی بات چھپاؤں میں شہر نے پوچھا گاؤں کا اس کو کیا بتلاؤں میں راہ میں کیسے دیر ہوئی کس کس کو سمجھاؤں میں صحرا صحرا بارش ہے دھوپ کدھر سے لاؤں میں
kis se dil bahlaaun main
41 views
مرے وجود کے آنگن میں خواب روشن تھا سواد ہجر میں تازہ گلاب روشن تھا کلی کلی کی زباں پر عذاب روشن تھا اے ہم سفر دل خانہ خراب روشن تھا یہ کس حساب میں جھیلی ہے میں نے در بہ دری ترے سوال بدن پر جواب روشن تھا میں اپنی آگ سے کھیلا میں اپنے آپ جلا حصار لمس میں اترا سحاب روشن تھا تو رت جگوں کی مسافت میں گم ہوا خورشیدؔ اک آفتاب پس آفتاب روشن تھا
mire vajud ke aangan mein khvaab raushan thaa
41 views
تیرے ہونٹوں پہ سجا ہے کیا ہے تیرا ہر رنگ دعا ہے کیا ہے تیرے آنگن میں لٹا ہے کیا ہے وہ بھی بارش میں کھلا ہے کیا ہے رنگ چڑھتے ہیں اتر جاتے ہیں موسم ہجر پتہ ہے کیا ہے لوگ الفاظ بدل لیتے ہیں اور چہروں پہ لکھا ہے کیا ہے اپنی برباد نگاہی کے ستم ایک در اور کھلا ہے کیا ہے میرے ہاتھوں کی لکیروں پہ نہ جا تو نے خود ہی تو لکھا ہے کیا ہے خود سے ملتا ہوں بچھڑ جاتا ہوں خواب زنجیر ہوا ہے کیا ہے ندیاں خشک ہوئی جاتی ہیں کوئی اس پار کھڑا ہے کیا ہے میری آنکھوں سے قیامت برسے جو بھی کچھ تو نے دیا ہے کیا ہے اپنے وقتوں کی زباں بولتا ہوں پھر یہ بازار لگا ہے کیا ہے میری بستی میں اداسی کیسی شہر کی سمت چلا ہے کیا ہے کتنی خوش پوش فضا ہے خورشیدؔ تیری آنکھوں کا نشہ ہے کیا ہے
tere honTon pe sajaa hai kyaa hai
41 views





