SHAWORDS
A

Aazim Sardhanvi

Aazim Sardhanvi

Aazim Sardhanvi

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

رک جائیے نہ دیجیے الزام اور کچھ اس درد دل کو چاہیے آرام اور کچھ اکثر میں بھول جاتا ہوں آتا نہیں ہے یاد دینا پڑے گا آپ کو اپنام اور کچھ عزت نہیں ملے گی جفاکار کو کہیں کیا ہوگا اس سے بڑھ کے بھی انجام اور کچھ جل جل کے مر ہی جائے گا حاسد بلا شبہ ہوتا ہے میرا نام اگر عام اور کچھ ہے انتظار آپ کا رستے پہ ہے نظر میری حسین کیجئے یہ شام اور کچھ میرے غریب خانے پہ تشریف لائیے ہو جائیں گے حسین در و بام اور کچھ معماروں کے دکھوں کی کہانی نہ ہم سے پوچھ ان کو ملا ہے کام کا انعام اور کچھ عازمؔ فساد کرتے ہیں وہ جان بوجھ کر جن کو نہیں ہے شر کے سوا کام اور کچھ

ruk jaaiye na dijiye ilzaam aur kuchh

41 views

غزل · Ghazal

خود کو تنہائی میں چھپایا ہے میں نے دل عشق میں گنوایا ہے ماں نے ڈانٹا مجھے خطا پہ بہت پھر گلے بعد میں لگایا ہے نفرتیں بڑھ گئیں بہت ہی مگر پیار کا گیت ہم نے گایا ہے ہم نے شکوے گلے کبھی نہ کئے رشتوں کو اس طرح نبھایا ہے ہم کو جھانسے میں ہر طرح سے لیا ایسی دنیا کی موہ مایا ہے ہر کسی کی نظر نہارے اسے حسن ایسا ہی اس نے پایا ہے جان قربان کی وطن کے لیے فرض عازمؔ نے یوں نبھایا ہے

khud ko tanhaai mein chhupaayaa hai

41 views

غزل · Ghazal

درد دیتی ہے یہ کمی دل کی دل میں رکھتے نہیں کبھی دل کی دل تڑپتا ہے گر نہیں بجھتی ایسی ہوتی ہے یہ لگی دل کی غم بہت ہے مجھے بچھڑنے کا آ گئی آنکھ میں نمی دل کی کیا گزرتی ہے ایسے لوگوں پر جن کو حاصل نہیں خوشی دل کی عشق میں جو کوئی ہوا ناکام اس کو ملتی ہے بیکلی دل کی کوئی آیا نہیں ابھی ان میں سونی سونی ہے ہر گلی دل کی آپ آتے ہیں جب کبھی ملنے شام رہتی ہے سرمئی دل کی تم اگر میرے دل میں بس جاؤ دور ہو جائے تیرگی دل کی خود سے ناراض مت کبھی ہونا بھاری پڑتی ہے دشمنی دل کی مل گیا ہے سکون مجھ کو اب بات عازمؔ نے مان لی دل کی

dard deti hai ye kami dil ki

41 views

غزل · Ghazal

ظلم خود پر میں ڈھا نہیں سکتا تجھ کو نیچا دکھا نہیں سکتا مجھ سے مطلب نکالنا ہے اسے ہاتھ یوں ہی ملا نہیں سکتا دل میں رکھتا ہے جو بشر کینہ شان اپنی بڑھا نہیں سکتا تاج پہنائے جا رہے ہیں اسے ایک مصرع لگا نہیں سکتا

zulm khud par main Dhaa nahin saktaa

41 views

Similar Poets