
Abbas Naqvi Bulandshehri
Abbas Naqvi Bulandshehri
Abbas Naqvi Bulandshehri
Ghazalغزل
یہ تو بہتر ہے مرے حق میں ہی بہتر نہ ہوا آج تک جو کہ علاج دل مضطر نہ ہوا آج بھی رہتا ہے وہ شخص مرے ہی دل میں میں تو بے گھر سہی پر وہ ہے کہ بے گھر نہ ہوا سامنا میرا کئی بار کیا اس نے مگر اس کا قد کم ہی رہا میرے برابر نہ ہوا میرے اپنے جو عداوت میں اگل دیتے ہیں زہر وہ آج بھی سانپوں کو میسر نہ ہوا
ye to behtar hai mire haq mein hi behtar na huaa
41 views
لوگ جو حق کے طرفدار ہوا کرتے تھے بس وہی صاحب کردار ہوا کرتے تھے یہ جو آتے ہیں نظر آپ کو ویران مکاں ان کے آنگن کبھی گلزار ہوا کرتے تھے وقت جو بدلے تو حالات بدل جاتے ہیں ورنہ ہم لوگ زمیں دار ہوا کرتے تھے یہ جو نفرت کی دکانیں ہیں سجی چاروں طرف کل یہیں عشق کے بازار ہوا کرتے تھے جب بھی سنتے تھے کہ مہمان کوئی آئے گا پھر تو وہ دن نہیں تیوہار ہوا کرتے تھے رکھا کرتے تھے وہ دکھ اوروں کا اپنے دل میں وہ قبیلوں کے جو سردار ہوا کرتے تھے راندۂ قوم فقط ان کو کیا جاتا تھا اپنی جو قوم کے غدار ہوا کرتے تھے وقت کیسا بھی ہوا سودا انا کا نہ کیا سب مرے گاؤں میں خوددار ہوا کرتے تھے گھر کا ہر فرد ہوا کرتا تھا عزت کا امیں یوں فرشتوں کے سے معیار ہوا کرتے تھے آج بن بیٹھے ہیں ایک دوجے کے دشمن ورنہ پہلے ہمسائے مددگار ہوا کرتے تھے اب تو عباسؔ بشر ایک بھی سچا نہ ملے پہلے سچ بولتے اخبار ہوا کرتے تھے
log jo haq ke taraf-daar huaa karte the
41 views





