Abd Haidar Kazmi
tham ke barso naa yahaan kachche makaanon ne abhi
تھم کے برسو نا یہاں کچے مکانوں نے ابھی ساز ٹپ ٹپ کے نہ گانے کی قسم کھائی ہے تو بھی عاشق ہے سمجھتا ہوں میں آنسو تیرے شوخ چنچل سی ہوا کھینچ تمہیں لائی ہے تم سمجھتے ہو زلیخا کی محبت کا جنوں کیسے خالق کو وہ عاشق کی ادا بھائی ہے تم کو معلوم ہے کیوں مصر کے بازاروں میں سیل یہ حسن کی خود عشق نے لگوائی ہے تم گرجتے ہو بڑے شوق سے گرجو لیکن تیری چیخوں میں محبت کی جگ ہنسائی ہے تم نے سوچا ہے بہت عشق محبت حیدرؔ بات یہ دل کی نہ عقلوں میں سما پائی ہے