Abdul Ahad Amjad
Abdul Ahad Amjad
Abdul Ahad Amjad
Ghazalغزل
din kaa suraj Duub jaae to jalaa denaa mujhe
دن کا سورج ڈوب جائے تو جلا دینا مجھے صبح جب بیدار ہو لے تو بجھا دینا مجھے کوئی دم میں جل اٹھوں گا میں سر راہ وفا تو اگر پاگل ہوا ہے تو بجھا دینا مجھے آج ملنا ہے مجھے اس غیرت ناہید سے اے ستارو آج تم اپنی قبا دینا مجھے اس سے پہلے ہوش میں آئے مری دیوانگی پتھروں کے شہر کا رستہ بتا دینا مجھے ہم نوائی کی یہی تو شرط اول ہے احدؔ جب پکاروں میں تجھے تو بھی صدا دینا مجھے
kiye mujh pe vaar tu ne kai paintare badal ke
کئے مجھ پہ وار تو نے کئی پینترے بدل کے کہ یہاں سے تو بھی رہنا مرے وار سے سنبھل کے ترے سر کو میں کچلنے کا ہنر بھی جانتا ہوں تو جواں ہوا ہے آخر مری آستیں میں پل کے ذرا زعم آ گیا ہے انہیں آج رہبری کا جنہیں منزلیں ملی ہیں مرے نقش پا پہ چل کے کسی موڑ پر جو بچھڑیں تو یہ احتیاط برتیں مری آنکھ بھی نہ برسے تری آنکھ بھی نہ چھلکے سر راہ جس کی خاطر میں ہوا ہوں قتل امجدؔ وہی شخص جا رہا ہے مری لاش کو کچل کے





