Abdul Ghaffar Azm
Abdul Ghaffar Azm
Abdul Ghaffar Azm
Ghazalغزل
tasvir ke khutut vo shahkaar bolte
تصویر کے خطوط وہ شہکار بولتے سب نقش ہائے صنعت معمار بولتے ہیں ہم شیش گھر میں اپنا سراپا نہ پڑھ سکے حسرت رہی کہ آئنے اک بار بولتے تنہائی کو ملا ہے وہ اعجاز درد ہے زنداں کے دیکھیے در و دیوار بولتے کیا کیا نہ گھر جمال کے آباد تھے یہاں کس دکھ سے شہر ویراں کے آثار بولتے ہر بات میں اٹھاتا تھا وہ نقطۂ گماں ہم کیا تھے کوئی محرم اسرار بولتے چپ کرتی تیری بے دلی کیا عزمؔ نالوں کو رہتے جو ہم خموش تو اشعار بولتے
ye aur baat hai kuchh gham jahaan jahaan na huaa
یہ اور بات ہے کچھ غم جہاں جہاں نہ ہوا ہمارے حال کا چرچا کہاں کہاں نہ ہوا ہوئے ہو جاں بہ لب اب ہوگا کیا تمنا کا جہاں پہ ڈھونڈتے ہو دل اگر وہاں نہ ہوا ملے جو جرم وفا کی سزا یہیں پہ ملے حساب اپنا کہاں ہوگا جو یہاں نہ ہوا نہیں ہیں آنسو ہی کوئی زباں مرے دل کی ہے ایسا اشک بھی آنکھوں سے جو رواں نہ ہوا ہوا کیا جانیے دل کو مرے شب تاریک ہزاروں داغ مگر ایک بھی عیاں نہ ہوا چڑھایا دار پہ اور کر دیا مجھے زندہ یہ اور کچھ ہوا حسرت ہے امتحاں نہ ہوا سنا رہے ہو یوں وحشت میں حال غم جو عزمؔ ہوا وہ نالۂ دل درد کا بیاں نہ ہوا





