Abdul Hafeez Khalish Taskini
Abdul Hafeez Khalish Taskini
Abdul Hafeez Khalish Taskini
Ghazalغزل
عشق کو پہنا رہا ہوں آہ و زاری کا لباس تا کہ ہو مجھ کو میسر فضل باری کا لباس کب ہمارے واسطے لوٹیں گی خوشیاں زندگی کب اتارے گا زمانہ سوگواری کا لباس راز میں پھر بھی ہمارا عشق رہ سکتا نہیں زیب تن ہم لاکھ کر لیں پردہ داری کا لباس میرے پیچھے پڑ گئے ہیں سیکڑوں بت اے خدا کر عطا ایماں کو میرے پائیداری کا لباس در حقیقت چھوڑ بیٹھے ہیں سبھی اب یہ چلن اک دکھاوا ہے وفا کی پاسداری کا لباس جان کر بازی لگانا جان پر آنے لگا بس نمائش کے لئے ہے اب تو یاری کا لباس لوگ اپنی عظمتوں کے گا رہے ہیں گن خلشؔ اور میں پہنے ہوئے ہوں انکساری کا لباس
ishq ko pahnaa rahaa huun aah-o-zaari kaa libaas
41 views
خدشۂ برق و شرر یاد آیا میں جہاں بھی گیا گھر یاد آیا بس ترا ہاتھ رہا یاد مجھے سنگ یاد آیا نہ سر یاد آیا ہر قدم پر تھا نشان منزل تیرے ہم راہ سفر یاد آیا اشک خورشید کہا تھا تجھ کو تو بہت وقت سحر یاد آیا دل مرا بحر الم میں ڈوبا جب ترا دیدۂ تر یاد آیا تھا مرے سر میں وفا کا سودا نفع یاد آیا ضرر یاد آیا اس قدر غم پہ نہ سوچو اے خلشؔ کیا کرو گے وہ اگر یاد آیا
khadsha-e-barq-o-sharar yaad aayaa
41 views
چمن کے دل نشیں خوش رنگ منظروں کے چراغ یہ تتلیوں کی گزر گاہیں یہ گلوں کے چراغ اندھیری رات میں برسات کی مری محسن چمکتی بجلیاں یعنی یہ بادلوں کے چراغ مرے قلم سے منور ہوں ذہن لوگوں کے جلاؤں بزم میں دنیا کی تجربوں کے چراغ نظر سے چوما تھا میں نے تمہارے جلوؤں کو بھلائے جاتے نہیں ان حسیں رتوں کے چراغ قدم اٹھانا کٹھن ہو گیا تری جانب بجھا دئے مری قسمت نے راستوں کے چراغ انہیں بجھائے گی فوراً ہوا زمانے کی جو خواب دیکھیں گے محلوں کے جھونپڑوں کے چراغ
chaman ke dil-nashin khush-rang manzaron ke charaagh
41 views
وقت کے آسیب سے ڈر جائیں کیا موت سے بھی پہلے ہم مر جائیں کیا بیچ میں در آئے ہے میری وفا تہمتیں اس شوخ کے سر جائیں کیا فرق عادت میں ابھی آیا نہیں ہم حرم مے خانہ ہو کر جائیں کیا ہو گئی ہے کیوں تمہاری آنکھ نم ہم یہاں کچھ دیر رک کر جائیں کیا زندگی کیا دل کشی کم تو نہیں آپ کی خاطر سہی مر جائیں کیا آج کل ماحول اچھا ہو گیا دل میں جو ٹھانی ہے ہم کر جائیں کیا جن میں ان کا قرب حاصل تھا خلشؔ میری آنکھوں سے وہ منظر جائیں کیا
vaqt ke aaseb se Dar jaaein kyaa
41 views





