
Abdul Halim Sharar
Abdul Halim Sharar
Abdul Halim Sharar
Ghazalغزل
kyaa sahl samjhe ho kahin dhabbaa chhuTaa na ho
کیا سہل سمجھے ہو کہیں دھبا چھٹا نہ ہو ظالم یہ میرا خون ہے رنگ حنا نہ ہو یا رب مجھے ہے داغ تمنا بہت عزیز پہلو سے دل جدا ہو مگر یہ جدا نہ ہو راہیں نکالتا ہے یہی سوز و ساز کی پہلو میں دل نہ ہو تو کوئی حوصلہ نہ ہو تم اور وفا کرو یہ نہ مانوں گا میں کبھی اس کو فریب دو جو تمہیں جانتا نہ ہو کیا کیا شررؔ ذلیل ہوئے آبرو گئی ایسا بھی عاشقی کا کسی کو مزا نہ ہو
moajiza vo jo masihaa kaa dikhaate jaate
معجزہ وہ جو مسیحا کا دکھاتے جاتے کہہ کے قم قبر سے مردے کو جلاتے جاتے مرتے دم باغ مدینہ کا نظارا کرتے دیکھ لیتے چمن خلد کو جاتے جاتے دیکھ کر نور تجلی کو ترے دیوانے دھجیاں دامن محشر کی اڑاتے جاتے بن کے پروانہ مری روح نکلتی تن سے لو جو اس شمع تجلی سے لگاتے جاتے اک نظر دیکھتے ہی روئے محمد کی ضیا غش پہ غش حضرت یوسف کو ہیں آتے جاتے ہے وہ صحرائے جنوں آپ کے دیوانوں کا حضرت خضر جہاں ٹھوکریں کھاتے جاتے ایسا محبوب ہوا کون کہ امت کے لئے روٹھتے آپ تو اللہ مناتے جاتے طور پہ حضرت موسیٰ نہ کبھی جل بجھتے آپ آنکھوں میں جو سرمہ نہ لگاتے جاتے صف محشر میں الٰہی بہ حضور سرور نعت پڑھ پڑھ کے یہ شہرت کی مناتے جاتے
tamannaa hai ye aankhon ki tiraa didaar aa dekhein
تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں کبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیں شفا ہو جائے دم میں کشتۂ ہجر محمد کو اگر وہ خواب میں بھی حالت بیمار آ دیکھیں یہ دل تھا ان کا مسکن مت اجاڑ اس کو غم ہجراں غضب آ جائے گا گر شاہ دیں مسمار آ دیکھیں نہ کچھ مرنے کا غم ہو اور نہ کچھ شکوہ ہو فرقت کا اگر حالت مری وہ سید ابرار آ دیکھیں جو مداح نبی پر طعنہ زن ممتاز ہوتے ہیں دکھائیں شعر اپنے اور مرے اشعار آ دیکھیں
husn-e-shah-e-laulaak jo chamkaa shab-e-mearaaj
حسن شہہ لولاک جو چمکا شب معراج جلووں سے نبی صبح تجلی شب معراج کیا خوب جما وصل کا نقشہ شب معراج مطلوب نیا طالب شیدا شب معراج پایا نہ تقرب کسی مخلوق نے ایسا جیسا کہ ملا شاہ کو رتبہ شب معراج طالب تھا خدا بندۂ محبوب کا اپنے مہمان خدا نور خدا تھا شب معراج گنجینۂ رحمت سے حبیب ازلی کو کیا کیا نہیں اللہ نے بخشا شب معراج تا دیر رہی طالب و مطلوب میں قربت دل بھر کے مزہ وصل کا لوٹا شب معراج کانوں نے سنا جو کبھی کانوں نہ سنا تھا آنکھوں نے نہ دیکھا تھا جو دیکھا شب معراج عالم کو کیا مست مئے حسن ازل نے بیکار رہا ساغر و مینا شب معراج نعلین مبارک کا ہوا فخر جو حاصل بس جھوم گیا عرش معلیٰ شب معراج اللہ کا دیدار محمد کی شفاعت مائلؔ کو ملی حشر کے دن یا شب معراج





