
Abdul Hameed Bashar
Abdul Hameed Bashar
Abdul Hameed Bashar
Ghazalغزل
میں آئینہ دکھاؤں اس سے پہلے بول پڑتے ہیں خود اپنی ہی صفائی میں یہ چہرے بول پڑتے ہیں خدا جانے یہ کیسی مصلحت کی قید ہے یارو کہ جھوٹوں کی حمایت میں بھی سچے بول پڑتے ہیں چھپا لیتا ہوں منزل سے میں سب دشواریاں لیکن سفر کا حال ان پیروں کے چھالے بول پڑتے ہیں انہیں معلوم ہے انجام اپنی لب کشائی کا مگر فطرت سے ہیں مجبور شیشے بول پڑتے ہیں تعلق کون رکھتا ہے کسی ناکام سے لیکن ملے جو کامیابی سارے رشتے بول پڑتے ہیں مری خوبی پہ رہتے ہیں یہاں اہل زباں خاموش مرے عیبوں پہ ہو چرچا تو گونگے بول پڑتے ہیں
main aaina dikhaaun is se pahle bol paDte hain
41 views
سنائیں کیسے سر بزم خار ہونے کا دکھ اور ایک بار نہیں بار بار ہونے کا دکھ ترا حبیب نہ ہونے کے دکھ پہ بھاری ہے ترے رقیبوں میں اپنا شمار ہونے کا دکھ ہم اپنے شہر میں رہ کر بھی روز سہتے ہیں ہرن کا شیر سے ایسے شکار ہونے کا دکھ ہر ایک سانس پہ بے موت مارتا ہے مجھے یہ پاک دامنی میں داغدار ہونے کا دکھ ہماری اپنی کوئی سمت تک نہیں یارو یہی ہے راہ کا اڑتا غبار ہونے کا دکھ اکیلا تو ہی نہیں دوستی کا بوجھ لئے ہمارے ساتھ بھی ہے غم گسار ہونے کا دکھ
sunaaein kaise sar-e-bazm khaar hone kaa dukh
41 views
ممکن نہیں خدا کے اس انعام کے بغیر ہوتی کہاں ہے شاعری الہام کے بغیر کچھ اس طرح سے زندگی اس نے بیان کی جیسے ہو بات میری مرے نام کے بغیر حاوی محبتوں پہ بھی خود غرضیاں ہوئیں ملتا کسی سے کون ہے اب کام کے بغیر کھیلیں بھی آگ سے رہیں محفوظ ہاتھ بھی آغاز چاہیے تمہیں انجام کے بغیر کیا قدر روشنی کی اندھیرا اگر نہ ہو کیا لطف دیں مسرتیں آلام کے بغیر
mumkin nahin khudaa ke is inaam ke baghair
41 views





