Abdul Hameed Farhat
Abdul Hameed Farhat
Abdul Hameed Farhat
Ghazalغزل
ashk-e-khun dard ke ghammaaz nazar aate hain
اشک خوں درد کے غماز نظر آتے ہیں فاش ہوتے مرے سب راز نظر آتے ہیں وسعت دہر میں ہر چشم حقیقت بیں کو ہر طرف عشق کے اعجاز نظر آتے ہیں یہ مہ و مہر یہ انجم یہ زمیں اور یہ فلک میرے روٹھے ہوئے دم ساز نظر آتے ہیں منتظر اہل نظر کے ہیں یہ غنچے شاید ہمہ تن گوش بر آواز نظر آتے ہیں غم جاناں کو بھلا دے گا دلوں سے جیسے غم دوراں کے یہ انداز نظر آتے ہیں ساز فطرت پہ لرزتے ہیں جو غمگیں نغمے کسی غم دیدہ کی آواز نظر آتے ہیں نت نئے علم و ہنر کے یہ کرشمے فرحتؔ کسی طوفان کا آغاز نظر آتے ہیں
jo tire dard kaa aazaar liye phirte hain
جو ترے درد کا آزار لئے پھرتے ہیں مژدۂ طالع بیدار لئے پھرتے ہیں ہم ہر اک بات کا معیار لیے پھرتے ہیں مفت کا جان کو آزار لیے پھرتے ہیں جس کے ہر خار میں کیفیت گل پنہاں ہو ہم تصور میں وہ گلزار لئے پھرتے ہیں تجھ سے کس غم کی تمنائے تلافی کرتے سیکڑوں غم ترے بیمار لیے پھرتے ہیں زندگی بھر جو نہ آئیں گے زباں پر شاید دل میں ہم ایسے بھی اسرار لیے پھرتے ہیں دل میں ہر چند یگانوں کا گلہ ہے لیکن لب پہ ہم شکوۂ اغیار لیے پھرتے ہیں دیر سے اس کو تعلق نہ حرم سے نسبت جو تڑپ تیرے طلب گار لیے پھرتے ہیں ہم تری بزم میں ہو جاتے ہیں شامل تو مگر آج تک حسرت گفتار لیے پھرتے ہیں یہ فضاؤں میں بھٹکتے ہوئے ذرے فرحتؔ اک نئے دور کے آثار لیے پھرتے ہیں





