
Abdul Majeed Bhatti
Abdul Majeed Bhatti
Abdul Majeed Bhatti
Ghazalغزل
haasil-e-umr-e-ravaan vo ek pal
حاصل عمر رواں وہ ایک پل جس میں تھا پہلی نظر کا روپ چھل دیدہ و دل کے لیے ہیں رہنما یہ جھجک نیچی نظر ابرو پہ بل پیاس لگتی ہے تو کیوں بجھتی نہیں آپ آئے تو ہوئی الجھن یہ حل کیا برا تھا بند ہی رہتی نظر زندگی بے کیف سی ہے آج کل نامۂ اعمال ابھی بے رنگ ہے چار دن کی چاندنی جائے نہ ڈھل کام تیرا ہے گھنی چھاؤں میں کیا تو مسافر ہے تجھے چلنا ہے چل پھر کہیں سے اک ذرا آواز دے سر پہ آئی موت بھی جاتی ہے ٹل
shaam-e-gham aur sitaaron ke sivaa
شام غم اور ستاروں کے سوا جی سکے ہم نہ سہاروں کے سوا تلخیٔ آخر شب کون سہے ہجر میں درد کے ماروں کے سوا بے رخی بھی تو بجا ہے لیکن پھول کیا چیز ہیں خاروں کے سوا کس کو فرصت ہے کہ ہو سیر چمن ماہ رو شعلہ عذاروں کے سوا رنگ دنیا میں کئی اور بھی ہیں بہکی بہکی سی بہاروں کے سوا جانے جنت میں بھی کیا رکھا ہے ایسے ہی شوخ نظاروں کے سوا زندگی سب کو صدا دیتی ہے ہاں مگر عرض گزاروں کے سوا





