Abdul Rahman Rasikh
kahaan the shab idhar dekho hayaa kyuun hai nigaahon mein
کہاں تھے شب ادھر دیکھو حیا کیوں ہے نگاہوں میں اگر منظور ہے رکھ لو مجھے جھوٹے گواہوں میں موحد وہ ہوں گر میں سر وحدت کان میں کہہ دوں مؤذن بت کدہ میں ہوں برہمن خانقاہوں میں نظر مجھ سے چرا کر منہ چھپا کر کہتے جاتے ہیں کہ یہ چوری بھی لکھی جائے گی تیرے گناہوں میں سیہ کاری مری بن جائے رشک گیسوئے خوباں قیامت کو چھپا بیٹھا رہوں یا رب گناہوں میں وہی راسخؔ تو ہیں کل تک جو میخانے کے درباں تھے بنے بیٹھے ہیں حضرت چار دن سے دیں پناہوں میں