
Abdullah Ali Ejaz
Abdullah Ali Ejaz
Abdullah Ali Ejaz
Ghazalغزل
آتش دم ہائے وحشت سے گریباں جل گیا وائے قسمت درد دل کا جو تھا درماں جل گیا مجھ سے محبوبی فراق یار کی مت پوچھیے گرمیٔ وصل صنم سے دل کا ارماں جل گیا باد فصل گل نے ان کے رخ سے الٹا دی نقاب خود کی سرخی سے چراغ اندر چراغاں جل گیا کر دیا اپنی عطا سے رب نے ہم کو آب آب اتنا روئے جیسے کوئی داغ حرماں جل گیا خندۂ گل کا نہ تھا یارا عنادل کو مگر رنج قربت دیکھ کر سارا گلستاں جل گیا دل میں ہی اچھی تھی گرمی حسرت ناکام کی اشک میں اترے علیؔ تو ملک مژگاں جل گیا
aatish-e-dam-haa-e-vahshat se garebaan jal gayaa
41 views
مرے عزیزو نہ دل جلاؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے چراغ کی لو ذرا گھٹاؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے جو تیرا آنا محال جاں تھا قرار باندھا تھا ہم سے کیونکر نبھا سکو قول تو نبھاؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے دنوں کے جاگے تھکن کے مارے بہ ذوق غم ہم سے کہہ رہے ہیں کتاب ماضی سے کچھ سناؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے سنہرا منظر نگار عشرت چھلک رہا ہے شفق کا ساغر اٹھاؤ جام شراب اٹھاؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے بیاض ماضی سے ہم نے سیکھا ہے رائگانی ملال آخر نشاط کے گیت گنگناؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے گھڑی دو بھر کو جو اور چل لیں قریب پائیں گے منزلوں کو شکستہ پا ہو کے چلتے جاؤ کہ شام اب تک ڈھلی نہیں ہے
mire azizo na dil jalaao ki shaam ab tak Dhali nahin hai
41 views
انجمن کے نہیں ہم طور نبھانے والے پاس قصے ہی نہیں کوئی سنانے والے دیکھیے شوق کہاں جا کے ٹھہر جاتا ہے صد حجابات میں اے رخ کو چھپانے والے اشک نے ضبط کی حرمت کو کیا تھا پامال تب سے روتے ہیں مرے ساتھ زمانے والے طور دنیا کا عجب طور ہے اے اہل ہنر راکھ ہوتے ہیں یہاں دیپ جلانے والے ہجر کے شہر کی خاموش فضا میں اعجازؔ کاش لوٹ آئیں مرے گیت سنانے والے
anjuman ke nahin ham taur nibhaane vaale
41 views
دنیا نہ چاہیے تجھے عقبیٰ نہ چاہیے اور دل کے بے شعار تمنا نہ چاہیے مارے ہے سر بہ سنگ تو پھوٹے ہے جوئے شیر کوہکن یہ کون ہے جسے تیشہ نہ چاہیے جوش جنوں میں جاں سے گزرنا سہی مگر جوش جنوں میں حد سے گزرنا نہ چاہیے کرتا ہے کون حسن کا دنیا میں حق ادا وارفتگی بہ طرز زلیخا نہ چاہیے رندان مے کدہ کو مبارک بلا کشی ہم کو شراب جلوۂ جانانہ چاہیے گردش میں ساغر و مے و مینا اگر نہیں اعجازؔ لب پہ نعرۂ مستانہ چاہیے
duniyaa na chaahiye tujhe uqbaa na chaahiye
41 views
جمی ہے جن پہ نظر وہ حدیں نہیں آئیں قدم اٹھا کہ ابھی منزلیں نہیں آئیں تجھے خبر ہے یتیموں کے درد کی جن کی زبان پر کبھی فرمائشیں نہیں آئیں گلے لگاتے ہیں خنجر ہزار پشت پہ ہوں منافقت کی یہ رسمیں ہمیں نہیں آئیں ادب میں رہتا ہوں سو اختلاف ہوں مجھ کو بڑوں کے آگے مجھے جرأتیں نہیں آئیں کہاں گئے تری محفل میں بیٹھنے والے علیؔ زمانہ ہوا رونقیں نہیں آئیں
jami hai jin pe nazar vo hadein nahin aaiin
41 views





