Abdur Rasheed Kaifi
Abdur Rasheed Kaifi
Abdur Rasheed Kaifi
Ghazalغزل
اٹھ جانے پر تو جلوے تمہارے نہاں کہاں تار نظر ہے پردہ کوئی درمیاں کہاں کل کائنات کیا ہے بجز یاس و آرزو دل سے زیادہ وسعت کون و مکاں کہاں اٹھے ہیں اب نگاہ سے پردے فریب کے جز درد و غم خوشی کا جہاں میں نشاں کہاں کیفیؔ کرشمے اپنے ہی کیف نظر کے ہیں اس دہر بے بساط میں رنگینیاں کہاں
uTh jaane par to jalve tumhaare nihaan kahaan
41 views
نشیمن جل چکا اہل چمن ہیں سرگراں ہم سے قفس سے چھوٹ کر جائیں کہاں بے خانماں ہم سے سنائیں اب انہیں کس منہ سے قصہ حسرت دل کا ہوئے ہیں ایک حرف آرزو پر بد گماں ہم سے جبین و سنگ در کا تفرقہ یکسر مٹا ڈالا قریں سجدوں نے اتنا کر دیا ہے آستاں ہم سے جلایا آشیاں پھونکا چمن پھر بھی نہ چین آیا طلب اب اور کیا کرتی ہیں آخر بجلیاں ہم سے کرم تھا آبلوں کا اور عنایت ساتھیوں کی تھی ذرا سی دور منزل تھی کہ چھٹا کارواں ہم سے کبھی تو جذبۂ الفت دکھائے گا اثر کیفیؔ نہ پوچھی جائے گی کب تک ہماری داستاں ہم سے
nasheman jal chukaa ahl-e-chaman hain sargiraan ham se
41 views
ادھر صبا نے خبر دی آ کر کہ آج ابر بہار آیا ادھر گریباں سیے ہوئے میں چمن میں دیوانہ وار آیا دعا ہے اپنی یہی شب غم نہ ہو کبھی اضطراب دل کم یہ زندگی زندگی کہاں پھر جو دل کو اپنے قرار آیا گلا ستم کا جفا کا شکوہ زباں پہ آیا تمہیں کہو کب یہ کیوں ہے پھر ہم سے سرگرانی یہ دل میں کیسے غبار آیا سکون ہو کس طرح میسر نصیب ہو چین کیسے آخر نہ موت آئی مریض غم کو نہ وہ شب انتظار آیا نہ جانے کیوں جوش گریہ اب کے بجائے گھٹنے کے بڑھ رہا ہے وگرنہ محفل سے یوں تو تیری میں بارہا اشک بار آیا
idhar sabaa ne khabar di aa kar ki aaj abr-e-bahaar aayaa
41 views
مخمور ادائے ساقی ہے محروم دل ناکام نہیں کھینچ آئی ہے میرے ساغر میں وہ مے جو رہین جام نہیں دنیائے چمن ہے پیش نظر پھرتا ہے سماں آنکھوں میں وہی ہم لاکھ رہیں پابند قفس کچھ دل تو اسیر دام نہیں کیوں داغ لہو کے دھوتے ہو کیوں زینت دامن کھوتے ہو بے کار پریشاں ہوتے ہو تم پر تو کوئی الزام نہیں وہ محو تغافل سنتا ہے ہم کہتے ہیں دل کا افسانہ کچھ باتیں ہیں بہکی بہکی سی آغاز نہیں انجام نہیں یا ہم ہی نہیں شایان جفا یا اس کو نہیں ہے قدر وفا اس بزم میں کیفیؔ ورنہ کوئی محروم نہیں ناکام نہیں
makhmur adaa-e-saaqi hai mahrum dil-e-naakaam nahin
41 views





