
Abdus Samad Aasi
Abdus Samad Aasi
Abdus Samad Aasi
Ghazalغزل
gul mileinge yahaan par har ik rang ke aap aaein mire gulsitaan ki taraf
گل ملیں گے یہاں پر ہر اک رنگ کے آپ آئیں مرے گلستاں کی طرف بوئے الفت اسی کی بہاروں میں ہیں لوگ جائیں تو جائیں خزاں کی طرف یہ مری انجمن ہے یہاں کچھ نہیں جز حقیقت یہاں پر بیاں کچھ نہیں آؤ سمجھو مرے قلب کا مدعا صرف جاؤ نہ میری زباں کی طرف سر جھکانے سے انکار کب ہے مجھے بہر مسجود پاس ادب ہے مجھے سجدۂ شکر بھی کفر ہو جائے گا دل جو مائل ہے حسن بتاں کی طرف عقل سے ماورا ہے مقام جنوں سب ہی اہل خرد ہیں یہاں سرنگوں چلتے چلتے یہاں کارواں رک گیا منزلیں خود بڑھیں کارواں کی طرف جب زباں کھولیے سوچ کر بولئے اپنے ہر لفظ کو عقل پر تولیے تیر آسیؔ کماں سے جو چھٹ کر گیا پھر وہ آتا نہیں ہے کماں کی طرف
laakh aashiq huaa kare koi
لاکھ عاشق ہوا کرے کوئی عشق کا حق ادا کرے کوئی عشق کی انتہا کرے کوئی جان ان پر فدا کرے کوئی جن کے دل میں بسا ہو تو ہی تو تجھ سے پھر کیا دعا کرے کوئی کرنے والی تو ذات اسی کی ہے کیا کسی کا بھلا کرے کوئی بے رخی سے ملے تو ملنا کیا عمر بھر تک ملا کرے کوئی عشق سے دل تو اس کا خالی ہے لاکھ ذکر خدا کرے کوئی جو بشر دشمن محبت ہو منہ نہ اس سے لگا کرے کوئی بے وفا وہ ہیں یا کہ میں آسیؔ آج یہ فیصلہ کرے کوئی
javaani kyaa hai hasin yaadgaar kaa aalam
جوانی کیا ہے حسیں یادگار کا عالم نہ ہوگا ایسا کسی تاجدار کا عالم بھرے شباب میں لیل و نہار کا عالم کہاں سے لائیے صبر و قرار کا عالم فضا اک حال پہ ٹھہری رہے یہ نا ممکن نہیں ہے خود پہ یہاں اختیار کا عالم غزل ہزل پہ نہیں منحصر شعور میاں ہے معانی خیز دلاور فگار کا عالم وہ بار بار گئے لوٹ کر کے آئے بھی مگر نہ ختم ہوا انتظار کا عالم مہک ہے مٹی میں ایسی کے دل کو کھینچے ہے نہ مجھ سے پوچھیے ان کے دیار کا عالم جو ان کو دیکھ لے اک بار دیکھتا ہی رہے حسین چہرے پہ حسن و وقار کا عالم جناب عشق سے کہہ دو بہت حسین ہے وہ انہیں پہ ختم ہے سولہ سنگار کا عالم جہاں کے ساتھ سمندر حسیں چمن زاریں لو دیکھ لو مرے پروردگار کا عالم قلندرانہ نظر ہے تری عجب آسیؔ ہے رحمتوں سے سجا حسن یار کا عالم
haal par mere ai naaseh-e-mohtaram aap ko kam se kam sochnaa chaahiye
حال پر میرے اے ناصح محترم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے میرے پہلو میں دل دل میں فرقت کا غم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے دل کو ترک تعلق تو منظور ہے یہ مگر کوشش ضبط سے دور ہے مجھ پہ کرنے سے پہلے یہ تازہ ستم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے خود اصولوں کا اپنے پرستار ہوں باہمی تفرقوں سے میں بیزار ہوں رند مشرب ہوں میں اہل دیر و حرم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے یوں نہ زلفوں کو شانوں پہ بکھرائیے ان کو سلجھائیے ان کو سلجھائیے جان لیں گے کسی کی یہ زلفوں کے خم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے یوں کنارے پہ لیجے نہ انگڑائیاں یوں نہاتی ہیں پانی میں پرچھائیاں اس کنارے پہ حیرت زدہ سے ہیں ہم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے آج وقت سحر اور بہ وقت اذاں میکدے کی طرف جا رہے ہو کہاں کہہ رہے ہیں یہ سب آسیؔ محترم آپ کو کم سے کم سوچنا چاہیئے
rashk-e-firdaus hai us ghuncha-dahan ki khushbu
رشک فردوس ہے اس غنچہ دہن کی خوشبو میری ہر سانس میں ہے اس کے بدن کی خوشبو حال کہتے ہوئے اس کا مرے لب جلتے ہیں ہے خیالوں میں مرے شعلہ بدن کی خوشبو وہ پری وش نظر آ جائے تو آتی ہے مجھے شوخئ داغ کی حسرت کے سخن کی خوشبو میرے اشعار سے روشن ہے کلاسک کا چراغ ہے تغزل میں مرے میر کے فن کی خوشبو تجربہ ہے یہ غریب الوطنی کا یارو بارہا ٹوٹ کے آتی ہے وطن کی خوشبو دشمن فصل بہاراں ہے وہ تخریبی ہے جس میں آتی نہ ہو تعمیر وطن کی خوشبو غالبؔ و میرؔ ولیؔ حسرتؔ و مومنؔ کی طرح سب کے شعروں میں ہے اس حسن کہن کی خوشبو ہیں تیرے پھول سے الفاظ کی غزلیں آسیؔ بزم میں دور سے آتی ہے سخن کی خوشبو
ham ne jaaez sharaab kar Daali
ہم نے جائز شراب کر ڈالی زندگانی خراب کر ڈالی دھجی دھجی خود اپنے مذہب کی ہم نے عالی جناب کر ڈالی صرف دنیا ہی تک نہیں محدود عاقبت تک خراب کر ڈالی کوئی چہرہ نظر نہیں آتا کوشش بے حساب کر ڈالی عقل مندوں نے ضد میں قدرت سے کل زمیں زیر آب کر ڈالی کچھ سمجھ میں نہ آپ کے آیا ختم ساری کتاب کر ڈالی کیا قیامت ہے پیر و مرشد نے کفر مستی ثواب کر ڈالی بس کے آسیؔ یہ وقت توبہ ہے آرزو بے حساب کر ڈالی





