
Abdus Sattar Akhtar Ansari
Abdus Sattar Akhtar Ansari
Abdus Sattar Akhtar Ansari
Ghazalغزل
nasib apne yahaan tum se bahra-var na hue
نصیب اپنے یہاں تم سے بہرہ ور نہ ہوئے تمام عمر کبھی مرکزنظر نہ ہوئے تمام عمر ہماری کچھ اس طرح گزری تمہاری یاد سے اک لمحہ بے خبر نہ ہوئے وہ کون سے ہیں مراحل رہ محبت میں جنون عشق و محبت سے بھی جو سر نہ ہوئے تمہاری یادوں کے نغموں کی گونج کے صدقے اداس دل کے ہمارے کبھی گہر نہ ہوئے ہمارے خواب سلامت تصورات بخیر نظر سے دور ہماری وہ رات بھر نہ ہوئے پہنچتے لے کے اسے منزل محبت پر نصیب ایسے زمانے کو راہبر نہ ہوئے جو ضبط غم کے بھی قابل نہ ہو سکے اخترؔ وہی تو اشک کے قطرے ہوئے گہر نہ ہوئے
naaz hote na kahin husn ke ghamze hote
ناز ہوتے نہ کہیں حسن کے غمزے ہوتے ہم نہ ہوتے تو کہاں پیار کے چرچے ہوتے آج نظروں میں تری ہم جو زمانے ہوتے کل فضاؤں میں بکھرتے ہوئے نغمے ہوتے سائے زلفوں کے اگر آپ کے مہکے ہوتے پھول کاندھوں پہ لئے اپنے جنازے ہوتے ہم جو ہوتے تری یادوں میں یقیناً شامل گوہر اشک تری آنکھ سے برسے ہوتے دامن دل پہ انہیں ہم تو سجائے رکھتے مثل خنجر نہ اگر آپ کے جملے ہوتے اف یہ تاریک فضاؤں کا سلگتا جادو کاش بکھرے تری یادوں کے اجالے ہوتے بد نصیبوں پہ کبھی یوں نہ برستے اخترؔ آتش غم میں اگر آپ بھی تڑپے ہوتے
ye ishq alam gham zanjirein
یہ عشق الم غم زنجیریں اک خواب کی لاکھوں تعبیریں آنکھوں سے اترتی سی دل میں کس چاند کی ہیں یہ تصویریں سینوں میں اندھیروں کی جھانکو ہیں لاکھوں مچلتی تنویریں دیکھی ہیں محبت میں ہم نے آنکھوں سے بدلتی تقدیریں ہے ان کا نصیبہ جود و کرم ہیں اپنا مقدر تعزیریں اب عکس تمہارا ہے دل میں کس کام کی میرے تصویریں ہے دل کے لہو کی غمازی اخترؔ یہ تمہاری تحریریں
pyaar ka hai khiraaj rahne do
پیار کا ہے خراج رہنے دو دل کے زخموں کی لاج رہنے دو منہ نہ موڑو کبھی محبت سے اپنے سر پر یہ تاج رہنے دو ہم سمجھتے ہیں پیار کی نظریں مت دکھاؤ مزاج رہنے دو گلشن زیست پہ چمن والو پیار و الفت کا راج رہنے دو عشق سے حسن مت جدا کرنا ہے حسیں امتزاج رہنے دو اہل حاجت کے کام کی خاطر اپنی ہر احتیاج رہنے دو عالم حسن ہے یہاں اخترؔ دل کا ہر امتزاج رہنے دو





