
Abdus Sattar Danish
Abdus Sattar Danish
Abdus Sattar Danish
Ghazalغزل
rukaavaT raaste ki miil kaa patthar nahin hotaa
رکاوٹ راستے کی میل کا پتھر نہیں ہوتا نظر منزل پہ ہو تو فاصلوں کا ڈر نہیں ہوتا قلعہ ایمان کا مضبوط ہو تو سر نہیں ہوتا خدا سے ڈرنے والوں کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا بھٹکتی ہے خوشی خانہ بدوشی کی طرح در در جہاں میں مستقل اس کا کہیں بھی گھر نہیں ہوتا فقط اعمال اور کردار پر ہیں منحصر رتبے کما کر مال و دولت آدمی برتر نہیں ہوتا غریبی ملک میں پھیلی ہوئی کیسے دکھائی دے سیاسی عینکوں میں دور کا نمبر نہیں ہوتا رسد آتی نہیں دانشؔ کبھی جنگ مقدر میں بشر تنہا ہی لڑتا ہے کوئی لشکر نہیں ہوتا
ziist kab ikhtitaam tak pahunchi
زیست کب اختتام تک پہنچی صرف مٹی مقام تک پہنچی زندہ رہنے کو تھا حلال بہت پھر بھی دنیا حرام تک پہنچی سرکشی کے نصیب میں پتھر بندگی فیض عام تک پہنچی مسئلہ صرف کرسیوں کا تھا بات بابر سے رام تک پہنچی کام آتی تھی مشکلوں میں کبھی دوستی اب سلام تک پہنچی پردہ اٹھتے ہی گھر کی زینت بھی کیسے کیسے مقام تک پہنچی میکدہ تو کھلا رہا دانشؔ تشنگی خود نہ جام تک پہنچی
sajde mein to zarur ye sar der tak rahaa
سجدے میں تو ضرور یہ سر دیر تک رہا رزق حرام کا بھی اثر دیر تک رہا ہر گوشہ بدن پہ سحر دیر تک رہا آنکھوں سے گفتگو کا اثر دیر تک رہا سچائی پر سزا تھی یہاں جھوٹ پر وہاں عالم میں کشمکش کے بشر دیر تک رہا ترک تعلقات سے سلجھا نہ مسئلہ بے چین وو ادھر یہ ادھر دیر تک رہا افسوس مستفیض مسافر نہ ہو سکے حالانکہ وہ شریک سفر دیر تک رہا تاریکیاں حسد کی ہی محروم رہ گئیں روشن خلوص کا تو قمر دیر تک رہا پیغام حق سنیں کہ سنیں نفس کی صدا دانشؔ بھی ہو کے زیر و زبر دیر تک رہا
naqsh hai har zulm jis kaa vaadi-e-kashmir par
نقش ہے ہر ظلم جس کا وادئ کشمیر پر اس نے دہشت گرد لکھا امن کی تصویر پر کاہلی کی لگ گئی دیمک ہر اک تدبیر پر اکتفا کرکے وہ شاید رہ گیا تقدیر پر تیز رکھنا دھار اپنے حوصلے کی ہر گھڑی منحصر ہے زندگی کی جنگ اس شمشیر پر رکھ توازن کچھ تو واعظ تو بھی قول و فعل میں لوگ گرویدہ نہیں ہوتے فقط تقریر پر تین سو تیرہ کے جیسے شرط ہیں اوصاف بھی فتح نا ممکن ہے خالی نعرۂ تکبیر پر کیسے دستک دے بھلا کوئی خوشی در پر مرے جب غموں کا سانپ آ کر چڑھ گیا زنجیر پر کھل اٹھا ہر ایک دانشؔ غنچہ اہل سخن خون دل چھڑکا جو ہم نے گلشن تحریر پر





