SHAWORDS
A

Abdussalam Kausar

Abdussalam Kausar

Abdussalam Kausar

poet
1Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ghairon ki anjuman mein meraa hi tazkira ho ye baat to ghalat hai

غیروں کی انجمن میں میرا ہی تذکرہ ہو یہ بات تو غلط ہے جو کچھ سنا ہے میں نے تم نے نہیں سنا ہو یہ بات تو غلط ہے سازش کا سلسلہ ہے شیطان ہنس رہا ہے انسان سو رہا ہے جو آج ہو رہا ہے کل بھی نہیں ہوا ہو یہ بات تو غلط ہے اس دور کی سیاست مکاریوں کا طوفاں خود غرضیوں کی آندھی جو منتخب ہوا ہے وہ شخص پارسا ہو یہ بات تو غلط ہے جمہوریت کے مہرے رہبر بنے ہوئے ہیں کم ظرف خود نگر ہیں ان سے کبھی کسی کا کوئی بھلا ہوا ہو یہ بات تو غلط ہے آنکھوں میں گرم آنسو سینوں میں سرد آہیں مجبور التجائیں دنیا کی گردشوں سے انسان بچ گیا ہو یہ بات تو غلط ہے وہ دور تھا نرالا سقراط نے پیا تھا جب زہر کا پیالہ اس دور میں بھی منصف ظالم کا ہم نوا ہو یہ بات تو غلط ہے میری خوشی سے نا خوش اور مجھ سے بد گماں ہے دشمن نہیں تو کیا ہے میری تباہیوں پر وہ خوش نہیں ہوا ہو یہ بات تو غلط ہے دل مانتا نہیں ہے پر عقل کو یقیں ہے حق بات بھی یہی ہے کہتے ہیں جس کو انساں محرومیٔ انا ہو یہ بات تو غلط ہے نظروں سے دور ہو کر کس حال میں ہے کوئی کوثرؔ یہ کون جانے لیکن نظر کے آگے ہمسایہ جل رہا ہو یہ بات تو غلط ہے

Similar Poets