Abdussamad Javed
Abdussamad Javed
Abdussamad Javed
Ghazalغزل
husn hai mehrbaan taajjub hai
حسن ہے مہرباں تعجب ہے پھر بھی ہم بد گماں تعجب ہے آمد آمد تھی موسم گل کی جل گیا آشیاں تعجب ہے جو بھٹکتے تھے پہنچے منزل پر کھو گئے کارواں تعجب ہے گرم تھی کل تو عیش کی محفل آج ماتم وہاں تعجب ہے پھول جھڑتے تھے ہر گھڑی جن سے ان لبوں پر فغاں تعجب ہے توبہ کی تھی شراب خانے سے آ گئے پھر یہاں تعجب ہے کوئے جاناں کی سر زمیں جیسے بن گئی آسماں تعجب ہے
apne arbaab-e-zar nahin badle
اپنے ارباب زر نہیں بدلے ہیں بڑے کم نظر نہیں بدلے چھوڑ دی شاخ گل ہوئی مدت طور برق و شرر نہیں بدلے گردشوں نے جہان کو بدلا شیخ والا گہر نہیں بدلے انقلاب آ کے ہو گئے رخصت اپنے شام و سحر نہیں بدلے ہم کو دنیا کچل کے رکھ دے گی ہم نے رہبر اگر نہیں بدلے گھولا جاتا ہے زہر امرت میں دوستوں کے ہنر نہیں بدلے ساری دنیا بدل گئی لیکن ہم ہی اپنی ڈگر نہیں بدلے
badli badli si gulistaan ki havaa aaj bhi hai
بدلی بدلی سی گلستاں کی ہوا آج بھی ہے دست صرصر میں گل تر کی قبا آج بھی ہے آج بھی خون شہیداں سے ہے تزئین جمال دست قاتل کو تمنائے حنا آج بھی ہے کارگر ہو نہ سکا زخم کے مرہم کا علاج میرے سینے میں ہر اک زخم ہرا آج بھی ہے آنسوؤں میں بڑی لذت تھی بہت پہلے بھی اک طرف بیٹھ کے رونے میں مزہ آج بھی ہے ہاں وہ جاویدؔ وہی تیغ تغافل کا قتیل ایک منجملۂ ارباب وفا آج بھی ہے





