Abdussamad Khan Qaiser
Abdussamad Khan Qaiser
Abdussamad Khan Qaiser
Ghazalغزل
کاغذ قلم کتاب سے محروم ہو گئے ہم جیتے جی جہان میں مرحوم ہو گئے حاکم بنے تو کھو گئے دنیائے عیش میں ساقی شراب جام کے محکوم ہو گئے مقتول ہی پہ آ گیا الزام خودکشی قاتل نگاہ عدل میں معصوم ہو گئے غربت میں ساتھ چھوڑ دیا تو نے بھی مرا معنی ترے خلوص کے معلوم ہو گئے کس سے ملیں کہ ذہن نہیں ہے کسی کا صاف سارے ہی لوگ شہر کے مسموم ہو گئے جب زندگی میں دین تھا خوشیاں تھیں چار سو غافل ہوئے تو دہر میں مغموم ہو گئے مطلب پرست رہ گئے قیصرؔ جہان میں جو پیکر خلوص تھے معدوم ہو گئے
kaaghaz qalam kitaab se mahrum ho gae
41 views
مجھے نہ ڈھونڈ چمن کی حسیں بہاروں میں سفیر دشت ہوں رہتا ہوں خارزاروں میں ہر ایک بات کی تشریح تو نہیں ہوتی کبھی تو بات کو سمجھا کرو اشاروں میں وہ کیسا جوش تھا بچوں میں بھی شہادت کا اچک رہے تھے جو پنجوں کے بل قطاروں میں خوشا کہ میری بصیرت ابھی سلامت ہے پرکھ رہا ہوں نگینوں کو سنگ پاروں میں بجا کہ تجھ کو ہے شوق شناوری لیکن ہے فرق جھیل ندی بحر کے کناروں میں اسے یہ خوف کہ میں با اثر نہ ہو جاؤں وہ میرا نام بھی لیتا نہیں اشاروں میں ریا پسند مزاجوں میں دین کیا قیصرؔ نہیں ہے جوہر ایماں ہی دین داروں میں
mujhe na DhunD chaman ki hasin bahaaron mein
41 views
مجھے منزلوں کی ہے جستجو نہ کسی ڈگر کی تلاش ہے جو مری نظر کو سمجھ سکے مجھے اس نظر کی تلاش ہے مجھے پاس دیر و حرم نہیں مری بندگی ہے وہ بندگی جہاں خود بخود مرا سر جھکے اسی سنگ در کی تلاش ہے یہ جہان رنج و الم تو ہے یہاں روز و شب یہی غم تو ہے نہ ہو جس کی پھر کوئی شام غم مجھے اس سحر کی تلاش ہے میں بھٹک رہا ہوں ادھر ادھر کوئی ہم سفر ہے نہ راہبر مری منزلوں سے جو خود ملے اسی رہ گزر کی تلاش ہے میں پریشاں حال ہوں اس قدر کہ ہے چشم تر تو حزیں جگر جہاں چل کے دل کو سکوں ملے اسی بام و در کی تلاش ہے میں مثال شمع مزار ہوں میں ظفرؔ کا اجڑا دیار ہوں میں وہی ہوں قیصرؔ غم زدہ مجھے پھر ظفر کی تلاش ہے
mujhe manzilon ki hai justuju na kisi Dagar ki talaash hai
41 views
دل کی لگی کے ساتھ عجب دل لگی رہی ظالم سے دوستی میں بھی اکثر ٹھنی رہی وہ دور ہو گئے تو یہ الجھن بنی رہی شاید مرے خلوص میں کوئی کمی رہی محفل میں ان کی پاس ادب بھی ضرور تھا خاموش تھی زبان نظر بولتی رہی اوصاف عاجزی کے تکبر نے کھا لئے کردار نسل نو میں کہاں عاجزی رہی دیتا رہا جہاں کو ہر اک سانس کا حساب کیسی عذاب جاں یہ مری زندگی رہی گم کردہ راہ شوق رہا میں تمام عمر منزل اگرچہ راہ مری دیکھتی رہی قیصرؔ اٹھو کہ آگ لگی ہے مکان میں جل جاؤ گے جو تم میں یوں ہی بے حسی رہی
dil ki lagi ke saath ajab dil-lagi rahi
41 views





