SHAWORDS
Abeera Ahmad

Abeera Ahmad

Abeera Ahmad

Abeera Ahmad

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تاک تازہ پر ادائے تازہ تر رکھ دیجیے کچھ نہ کچھ بخشش صبا کے ہاتھ پر رکھ دیجیے دیجیے مت گفتگو کی راہ اس بے راہ کو ان کہی کی تیغ عریاں پر سپر رکھ دیجیے کانپنے لگتا ہے اس لاچار کا نیلا بدن شب کے زانو پر اگر گھبرا کے سر رکھ دیجیے عالم گیتی کی بے لطفی سے گھبرائے نہ دل چاہیے تو اک تماشائی دگر رکھ دیجیے لمحۂ موجود کا دکھ بانٹنے کو دو گھڑی کھول کر سب پیر سے لپٹے سفر رکھ دیجیے کاوش نو دیکھیے اور کاسۂ امید میں اک نظر اور ایک حرف معتبر رکھ دیجیے مو قلم رکھ دیجیے پانی کی موجوں پر عبیرؔ آب جو پر اک بنائے مستقر رکھ دیجیے

taak-e-taaza par adaa-e-taaza-tar rakh dijiye

41 views

غزل · Ghazal

کبھی تو دست ہمہ گیر میں سبو ہو جائے یہ خاک بھی کبھی آسودۂ نمو ہو جائے بیاض دل پہ ترا نقش آشکارا ہو پھر اس کے بعد تری دید کو بہ کو ہو جائے نہیں کہ رنگ حنا میرے ہاتھ پر نہ کھلا ہتھیلیوں کو یہ ضد تھی کہ دل لہو ہو جائے وہ اور ہیں کہ جو سامان زیست مانگتے ہیں پہ اس قدر ہو کہ سامان آبرو ہو جائے یہ اذن روز ازل عشق کو دیا نہ گیا کہ مبتلائے ہوس کوئی آرزو ہو جائے وہ فتنہ گر کہ کبھی کھینچ لے بدن سے لہو کبھی وہ چشم سیہ کار آب جو ہو جائے بحال ہو جو تکلم کا سلسلہ تو عبیرؔ ترے نصیب پہ شاید کہ گفتگو ہو جائے

kabhi to dast-e-hama-gir mein subu ho jaae

41 views

غزل · Ghazal

اک دیے کی لو کف صد آئینہ چمکا گئی روشنی کی اک کرن مہتاب کو شرما گئی ہاتھ ملتا دن کسی امید پر منتج ہوا خستگی بڑھتی ہوئی دیوار شب تک آ گئی اشک شوئی کے لیے تیری حمایت چاہئے دیکھ تیری ہم سبوئی میں یہ نوبت آ گئی عذر خواہانہ نگاہیں حرف چنتی رہ گئیں باز پرساں خامشی اپنی کہی منوا گئی کب تلک یہ عالم دل بستگی دل خستگی دھڑکنوں کو یہ مشقت ہو نہ ہو راس آ گئی شب تری تصویر کا بوسہ لیا اور یک بہ یک اک نمی سی تھی کہ عکس و آئنہ دھندلا گئی دل کی حالت کو اگر تعبیر کیجے عشق سے منزلوں کے پھیر میں پھر فہم دھوکا کھا گئی شاعری شرما رہی ہے آج اس کو دیکھ کر زندگی اک خوب صورت آدمی کو کھا گئی یہ نہیں رہنے کی جائے چشم حیراں یاں سے چل درشنی جلووں کی بستی میں نظر چندھیا گئی

ik diye ki lau kaf-e-sad-aaina chamkaa gai

41 views

غزل · Ghazal

کوئی ملال اب بھی آشکار ہو تو معذرت نگاہ آپ سے گلہ گزار ہو تو معذرت سر مژہ عجب عجب چراغ جل اٹھیں اگر نواح چشم جشن نو بہار ہو تو معذرت یہ نخل بے نمو جو برگ و بار لا نہیں سکا بہ فیض دست غیر شاخسار ہو تو معذرت شکستگی کے بعد دل بھی دیکھنے کی چیز ہے نظر پڑے پہ آنکھ شرمسار ہو تو معذرت جنوں کی رو میں ہو رہی ہے اک کے بعد اک غزل یہ سلسلہ ابھی ستارہ وار ہو تو معذرت رواق جاں میں نزد شام اک دیا سا جل اٹھے نگار شب کے ہاتھ میں ستار ہو تو معذرت سپاہ غم تو دل کو روندتے ہوئے گزر چکی محیط منزلوں ابھی غبار ہو تو معذرت میں خود سے تو حساب دوستاں کبھی نہیں کیا خدا نہ کردہ گر کبھی شمار ہو تو معذرت فقیر کا تو حاصل حیات ہے یہی ہنر جناب کو متاع کم عیار ہو تو معذرت بہ یک نگہ میں خسرو غزل تو ہو نہیں سکی یہ درد مے خمار مستعار ہو تو معذرت

koi malaal ab bhi aashkaar ho to maazarat

41 views

غزل · Ghazal

رابطہ بن نہیں رہا راستہ بن نہیں رہا بھیڑ کے ساتھ ہوں مگر قافلہ بن نہیں رہا ناقۂ جاں کو روکئے دور تلک سراب ہے اور یہ دل کہ اب تلک پیشوا بن نہیں رہا زاد سفر نہ پوچھیے زاد سفر کے نام پر بے نمو ایک زخم ہے آبلہ بن نہیں رہا اتنا تو کہہ کہ ہاتھ میں اور کوئی ہنر بھی ہے تیرا سخن ترا کفیل شاعرہ بن نہیں رہا چارہ نہیں کوئی عبیرؔ منت غیر کے سوا چہرہ بہ چہرہ بھی اگر واسطہ بن نہیں رہا

raabta ban nahin rahaa raasta ban nahin rahaa

41 views

Similar Poets