
Abhishar Geeta Shukl
Abhishar Geeta Shukl
Abhishar Geeta Shukl
Ghazalغزل
dukh to bahut mile hain mohabbat nahin mili
دکھ تو بہت ملے ہیں محبت نہیں ملی یعنی کہ جسم مل گیا عورت نہیں ملی مجھ کو پتا کی آنکھ کے آنسو تو مل گئے مجھ کو پتا سے ضبط کی عادت نہیں ملی وہ سارے بد نصیب کہیں نوکری پہ ہیں جن کو بھی خودکشی کی سہولت نہیں ملی دریا میں ڈوبے لوگ سمندر کی پیاس تھے دریا کو لاش مل گئی لذت نہیں ملی
ghazal mein jab bhi nae zaaviyon ki baat hui
غزل میں جب بھی نئے زاویوں کی بات ہوئی تمہارے جسم پہ کھلتے تلوں کی بات ہوئی پرانے زخم ابھر آئے جسم پر میرے اسی بہانے کئی دوستوں کی بات ہوئی اداس لوگ اسی بات سے ہیں خوش کہ چلو ہمارے ساتھ ہوئے حادثوں کی بات ہوئی زیادہ تو نہیں پر اتنا یاد ہے مجھ کو ہمارے ہونٹ ملے دھڑکنوں کی بات ہوئی ہمارے سامنے ہی دوسرے کا ذکر ہوا دیے کے سامنے ہی آندھیوں کی بات ہوئی نئے سے دور میں کچھ اور تو نہیں ہوا پر سوال کرتی ہوئی لڑکیوں کی بات ہوئی
jo paDhne ke liye us ko diyaa diyaa jaae
جو پڑھنے کے لئے اس کو دیا دیا جائے تو میرے جسم کو اک خط بنا دیا جائے وہ روح پیاس ہے میری سو چاہتا ہوں میں بدن ہٹا کے مجھے راستا دیا جائے وہ لڑکی روز یہی کہتی رہتی ہے مجھ سے چلو چراغ جلا کے بجھا دیا جائے ہمیں پرندے کے ہر زخم کا خیال رکھیں ہمیں سے لے کے پرندہ اڑا دیا جائے تو اس سے پہلے کہ مجھ کو بھرم ہو ہنسنے کا تماشہ ختم ہو پردا گرا دیا جائے یہ جسم آنسوؤں سے اتنا بھر چکا ہے دوست مٹا کے اب مجھے دریا بنا دیا جائے یہیں چھوا تھا مجھے چھوڑتے ہوئے اس نے یہاں کے زخم کو گہرا بنا دیا جائے
sochaa thaa ishq hogaa nahin ik pari ke baa'd
سوچا تھا عشق ہوگا نہیں اک پری کے بعد پر پیاس اور بڑھ گئی ہے اس ندی کے بعد ناکام ہو جو عشق میں تو شاعری کرو جادوگری سے کام لو چارہ گری کے بعد تب کیا کرے گا دوست اگر وہ نہیں ملی جو زندگی تو چاہتا ہے خودکشی کے بعد پھر بھی یقین کر رہا ہوں اس خدا پہ میں جو بے بسی بنا رہا ہے آدمی کے بعد کچھ زخم مسکراہٹوں کے ایسے رہ گئے جیسے کہ تیرگی کے نشاں چاندنی کے بعد یہ دل جلوں کی فوج مرے ساتھ جائے گی کچھ بھی نہیں بچے گا یہاں شاعری کے بعد ہم عشق سے نکل چکے افسردگی میں ہیں اک اجنبی کے ساتھ ہیں اک اجنبی کے بعد
mohabbat mein nae laDke vafaa kah kar
محبت میں نئے لڑکے وفا کہہ کر وہی غلطی کریں گے پر نیا کہہ کر بہت مشکل نہیں ہے بھولنا کچھ بھی بھلا ہی دیں گے تم کو حادثہ کہہ کر یہ کس کی چال میں آئیں نئی نسلیں اداسی بیچ دی کس نے دوا کہہ کر کرو گی کیا تمہاری بیٹیوں کو جب کوئی آواز دے گا بے وفا کہہ کر
dasht kinaare ishq pukaarein aur kahein ye tum hi ho
دشت کنارے عشق پکاریں اور کہیں یہ تم ہی ہو ہر مرہم کا گھاؤ لگا لیں اور کہیں یہ تم ہی ہو سب نے کیا کیا روپ گڑھے ہیں تیری حسن بیانی میں ہم دریا سے چاند نکالیں اور کہیں یہ تم ہی ہو جتنے عشق کہیں ہوں سب نے اور سنیں ہوں جتنے بھی سب کی اک تصویر بنا لیں اور کہیں یہ تم ہی ہو دنیا کی پھلواری میں جو سب سے سندر تتلی ہو اس تتلی کا حسن سنواریں اور کہیں یہ تم ہی ہو جس چڑیا نے پنجرہ توڑا عشق کیا آزاد ہوئی اس چڑیا کے پنکھ نہاریں اور کہیں یہ تم ہی ہو





