
Abhishek Tiwari
Abhishek Tiwari
Abhishek Tiwari
Ghazalغزل
اس کا دیدار ہوا جشن منایا جائے ہم کو بھی پیار ہوا جشن منایا جائے ایک مدت سے مری زندگی سوئی پڑی تھی بخت بیدار ہوا جشن منایا جائے وہ جو ناصح تھا ترے عشق کی بابت سائیں میرا غم خوار ہوا جشن منایا جائے یہی دل جس نے کہ طوفان مچا رکھا تھا اچھا ہے خوار ہوا جشن منایا جائے
us kaa didaar huaa jashn manaayaa jaae
41 views
کیا ہے میری ذات کیا اوقات ہے کچھ بھی نہیں تیری رحمت کے سوا کیا ساتھ ہے کچھ بھی نہیں جو بھی ہے مجھ میں وہ تیرے نام سے مجھ کو ملا ورنہ اس ناچیز میں کیا بات ہے کچھ بھی نہیں میری آنکھیں رونے پر آ جائیں تو پھر دیکھنا سامنے ان کے یہ کیا برسات ہے کچھ بھی نہیں وہ جسے دنیا سے کچھ لینا نہ دینا دوستو اس کی خاطر جیت ہے کیا مات ہے کچھ بھی نہیں جس اندھیرے سے گزرنا ہو رہا ہے ان دنوں سامنے اس کے بھلا کیا رات ہے کچھ بھی نہیں
kyaa hai meri zaat kyaa auqaat hai kuchh bhi nahin
41 views
دیکھ کر لوگ کتنا جلتے ہیں آپ جب میرے ساتھ چلتے ہیں شام ہوتے ہی میری پلکوں پر تیری یادوں کے دیپ جلتے ہیں یہ جوانی کا موڑ ہے پیارے اچھے اچھے یہیں پھسلتے ہیں اک زمانہ تھا وصل چاہیئے تھا اور اب ہجر کو مچلتے ہیں اس کے جانے پہ روز روتے تھے اس کے آنے پہ ہاتھ ملتے ہیں شام ہوتے ہی درد کے مارے مے کدوں کی طرف نکلتے ہیں ایسے تو لازمی ہے بربادی دوستوں خود کو اب بدلتے ہیں ہائے وہ لوگ کتنے ناداں ہیں اپنے خوابوں کو جو کچلتے ہیں
dekh kar log kitnaa jalte hain
41 views





