Abid Aleem Sahw
Abid Aleem sahw
Abid Aleem sahw
Ghazalغزل
chalo chhoDo miri jaanaan hain ye bekaar ki baatein
چلو چھوڑو مری جاناں ہیں یہ بے کار کی باتیں چلو دریا کنارے پر کریں ہم پیار کی باتیں ہے موسم عاشقانہ اور گھٹا ساون کی چھائی ہے ذرا پھولوں سے ہو جائیں لب و رخسار کی باتیں تمہارے مسئلے کا اب کوئی میں حل نکالوں گا مگر اب تم کبھی سننا نہ یہ اغیار کی باتیں شب ہجراں ہے اور دل پہ اداسی چھائی جاتی ہے کوئی آ کے سنائے اب مجھے بھی یار کی باتیں مجھے معلوم ہے سن کر یہ تم کو رنج ہوتا ہے جو اکثر لوگ کرتے ہیں ترے غم خوار کی باتیں پھر اس کی شبنمی آنکھوں کی رنگت بڑھتی جاتی ہے جو محفل میں وہ کرتا ہے مرے اشعار کی باتیں ہے اس کے پھول سے چہرے پہ چھائی تازگی عابدؔ اسے دیکھوں تو یاد آئیں مجھے گلزار کی باتیں
ye haqiqat bhi bajaa ki pur-khatar hai zindagi
یہ حقیقت بھی بجا کہ پر خطر ہے زندگی خون دل پیتی ہے پھر بھی بے ثمر ہے زندگی ظلم و استبداد کے اس دور پر آشوب میں راحتوں آسائشوں سے بے خبر ہے زندگی دیکھ کر حالت جہاں کی اب تو لگتا ہے یہی بے مزہ بے فائدہ اور بے ثمر ہے زندگی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہے بے خطر جانب منزل رواں محو سفر ہے زندگی بے بسی بے چارگی کا ہے علیمؔ اجڑا دیار اک بیاباں ایک ویراں سی ڈگر ہے زندگی
ham ne lutf-e-bahaar dekhaa hai
ہم نے لطف بہار دیکھا ہے اپنی آنکھوں میں خار دیکھا ہے یہ کنارا نہیں مری منزل کر کے دریا بھی پار دیکھا ہے لوٹ کر کوئی آ رہا ہوگا میں نے گرد و غبار دیکھا ہے آنکھ اٹھتی نہیں نظارے سے اس لیے بار بار دیکھا ہے
kyon aashufta sar baiThaa huun
کیوں آشفتہ سر بیٹھا ہوں کچھ تو ایسا کر بیٹھا ہوں شام کا سورج ڈھلنے لگا ہے لے کر چشم تر بیٹھا ہوں کوئی ہوا کا جھونکا آئے کھولے سارے در بیٹھا ہوں گھر جانے کی بھی جلدی ہے کھول کے بھی دفتر بیٹھا ہوں تیز ہوا میں لڑنا بھی ہے کاٹ کے سارے پر بیٹھا ہوں یعنی تجھ سے عشق کیا ہے جینا دوبھر کر بیٹھا ہوں عابد موت سے کیا ڈرنا ہے پہلے ہی میں مر بیٹھا ہوں
yaar bhi aazmaane lagte hain
یار بھی آزمانے لگتے ہیں زخم دل پر لگانے لگتے ہیں گھونپ کر وہ چھرا بغل میں اب مجھ سے ہنسنے ہنسانے لگتے ہیں ساتھ آ جائے وہ اگر میرے سارے موسم سہانے لگتے ہیں رازداں بھی عجیب ہیں میرے بات دل کی بتانے لگتے ہیں اور شدت سے یاد آتے ہو جب تمہیں ہم بھلانے لگتے ہیں میری حالت کو دیکھ کر سب لوگ جانے کیوں مسکرانے لگتے ہیں آؤ شکوے بھلا نہ ڈالیں علیمؔ پیار کو گنگنانے لگتے ہیں





