Abid Hashri
Abid Hashri
Abid Hashri
Ghazalغزل
شیام گوکل نہ جانا کہ رادھا کا جی اب نہ بنسی کی تانوں پہ لہرائے گا کس کو فرصت غم زندگی سے یہاں کون بے وقت کے راگ سن پائے گا اس گلی سے چلی درد کی رو مگر شہر میں اہل دل ہیں نہ اہل نظر جانے کس سر سے گزرے گی یہ موج خوں جانے کس گھر یہ سیلاب غم جائے گا ظلمت غم سے اتنے ہراساں نہ ہو کون مشکل ہے یارو جو آساں نہ ہو یہ گراں خواب لمحے بھی کٹ جائیں گے رات ڈھل جائے گی دن نکل آئے گا ہر نفس ہر قدم ہر نئے موڑ پر وقت اک زخم نو دے رہا ہے مگر وقت خود اپنے زخموں کا مرہم بھی ہے وقت کے ساتھ ہر زخم بھر جائے گا کس لگن کس تمنا سے کس چاؤ سے موسم رنگ و نکہت کو دی تھی صدا کیا خبر تھی کہ ابر بہار آفریں آگ کے پھول گلشن پہ برسائے گا تیرے غم کے چراغوں کی صد رنگ ضو اک کرن دے سکے گی نہ احساس کو بزم جاں اتنی سنسان ہو جائے گی شہر دل اتنا ویران ہو جائے گا
shyaam gokul na jaanaa ki raadhaa kaa ji ab na bansi ki taanon pe lahraaegaa
41 views
زمیں سے چل کے تو پہنچا ہوں آسماں تک میں سفر کا بوجھ اٹھائے پھروں کہاں تک میں ازل وجود سفر راستے کی دھند عدم قصوروار ہوں ترتیب داستاں تک میں سکون زیست عبارت تھا جس کی یادوں سے بھلا چکا ہوں وہ حرف قرار جاں تک میں یہ سوچ کر نہ کوئی راستے میں لٹ جائے دئے جلاتا چلا کوئے دلبراں تک میں میں زندگی کی عنایات سے نہیں محروم قریب ہوں غم دل سے غم جہاں تک میں نہ فرش میرا ٹھکانہ نہ عرش میرا مقام یہ اور بات زمیں پر ہوں آسماں تک میں
zamin se chal ke to pahunchaa huun aasmaan tak main
41 views
نہ کرب ہجر نہ کیفیت وصال میں ہوں مجھے نہ چھیڑئیے اب میں عجیب حال میں ہوں تمام رنگ عبارت میں سوز جاں سے مرے میں حسن ذات ہوں اور منزل جمال میں ہوں مرا وجود ضرورت ہے ہر زمانے کی میں روشنی کی طرح ذہن ماہ و سال میں ہوں ابھی وسیلۂ اظہار ڈھونڈھتی ہے نگاہ ابھی سوال کہاں حسرت سوال میں ہوں مجھے نہ دیکھ مری ذات سے الگ کر کے میں جو بھی کچھ ہوں فقط اپنے خد و خال میں ہوں میں جی رہا ہوں یہ میرا کمال ہے حشریؔ میں اپنے عہد کی تہذیب کے زوال میں ہوں
na karb-e-hijr na kaiffiyat-e-visaal mein huun
41 views
درد کی لہر یقیناً مرے گھر جائے گی میں نہ ہوں گا تو خدا جانے کدھر جائے گی موجۂ خوں سے گزرنا ہے گزر جائے گی چار دن بعد یہ ندی بھی اتر جائے گی کون کر سکتا ہے افکار و نظر کو محصور کام خوشبو کا بکھرنا ہے بکھر جائے گی منزل زیست تجھے میں نہ کروں گا مایوس میں نہ پہنچا تو مری گرد سفر جائے گی میں اندھیروں کے تسلسل سے نہیں ہوں خائف روشنی آج نہیں کل مرے گھر جائے گی میں تو مر سکتا ہوں حالات کے سناٹوں میں دوستو کیا مری آواز بھی مر جائے گی
dard ki lahar yaqinan mire ghar jaaegi
41 views





