SHAWORDS
A

Abu Leveeza Ali

Abu Leveeza Ali

Abu Leveeza Ali

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

kisi kaa khat hai yaa ye ghazal hai ye kaisaa parcha paDaa huaa hai

کسی کا خط ہے یا یہ غزل ہے یہ کیسا پرچہ پڑا ہوا ہے گلال سے لب بنے ہیں اس میں کتاب چہرہ بنا ہوا ہے نگاہ اس کی ہے جھیل جیسی کمان جیسی بھوؤں کے نیچے تو سرخ ہونٹوں کے ایک جانب بھی تل کا پہرہ لگا ہوا ہے ہاں سبز قندیل جل رہی ہے بلا کی سرخی ابل رہی ہے ادا سے پلکیں جھکی ہوئیں ہیں حیا کا آنچل پڑا ہوا ہے لو اب ہماری ثقیل آنکھیں قدیم رستوں پہ چل پڑی ہیں وفا کے کھنڈر سے کچھ پرے ہی ہمارا ملبہ پڑا ہوا ہے سفید بالوں کے پیچھے اپنی جوان عمری کے پل نہیں ہیں ہے عہد طفلی کا ایک بوڑھا جو لڑکھڑاتا کھڑا ہوا ہے بہت حسیں ہے یہ سچا موتی جو رنگ سے اس کے منسلک ہے مگر اسے یہ خبر نہیں ہے ہمارا آنسو جڑا ہوا ہے ہے چاپ اس کی ہماری دھڑکن جو دل میں دھک دھک لگی ہوئی ہے فراق اس کا وصال ہی ہے وہ بن کے دھڑکا لگا ہوا ہے بہت سنوارا مصوروں نے بہت سے ڈالے ہیں رنگ اس میں مگر یہ صورت ہے میری صورت سو رنگ اس کا اڑا ہوا ہے

غزل · Ghazal

palaT jaanaa koi mushkil nahin thaa

پلٹ جانا کوئی مشکل نہیں تھا مرا ہی واپسی کا دل نہیں تھا متاع زیست لا حاصل نہیں تھا ولے پانے کے میں قابل نہیں تھا وہ چھریاں دھار جس پر ہو رہیں تھیں مرا ہی دل تھا کوئی سل نہیں تھا کھلا باب جنوں جب مجھ پہ یارو مرا تب کوئی مستقبل نہیں تھا مریض عشق ہونے تک سنا ہے ادھوری ذات تھا کامل نہیں تھا مجھے غرقاب تھا از حد ضروری وگرنہ زیست کے قابل نہیں تھا میں پیاسا تھا مگر ہونٹوں سے محروم سمندر تھا مگر ساحل نہیں تھا نہ دو الزام بھنورے کو علیؔ تم وہ ہرگز پھول کا قاتل نہیں تھا

غزل · Ghazal

aql thi aagahi ne maar diyaa

عقل تھی آگہی نے مار دیا دید کو روشنی نے مار دیا ایک بیکس تھا جس کے خوابوں کو اس کی بے چارگی نے مار دیا ہم نے چاہا کہ بات بن جائے زیست کی بے رخی نے مار دیا دیکھ کر پانی مر گیا پیاسا اس کو سچی خوشی نے مار دیا تھا جو اپنا بنا وہ انجانا پھر اسی اجنبی نے مار دیا کیا تعجب کی کوئی بات نہیں آدمی آدمی نے مار دیا

غزل · Ghazal

shikast-e-khurdgi ke baad hausla nahin huaa

شکست خوردگی کے بعد حوصلہ نہیں ہوا جو چوکا پہلا وار ہی تو دوسرا نہیں ہوا کہا ہوا سنا ہوا لکھا ہوا نہیں ہوا ہمارے حق میں تو کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا قدم ثقیل ہو گئے طویل راہ ہو گئی ملال تھا کمال پر وصال تھا نہیں ہوا سکوت لب کا وہ سبب ہیں سسکیاں وہ ہچکیاں نگاہ عشق سے فرو وہ حادثہ نہیں ہوا تمام دل کے پارچے بکھر چکے زمین پر حساب رکھنے والے کا محاسبہ نہیں ہوا پلٹ گئے تماش بیں گئی وہ شعبدہ گری تھی گنگ وہ زبان جب کہا ہوا نہیں ہوا ہوئی بلند اک صدا کہ اب کرو وہ فیصلہ نگاہ ناز یافتہ وہ دوسرا نہیں ہوا تمہارے نقش پا پہ میں جو چل رہا ہوں دیر سے میں ختم ہو رہا تو ہوں پہ راستہ نہیں ہوا

غزل · Ghazal

paanv jab mere aasmaan mein the

پاؤں جب میرے آسمان میں تھے اس گھڑی آپ ہی دھیان میں تھے جس گھڑی ہم بہت تھے پر امید اس گھڑی آپ کے جہان میں تھے عسرت زیست ہم غریبوں پر دھوپ چھوٹی تو ہم تھکان میں تھے سیر دیوار و در کی کی ہم نے عیش تھی رات ہم مکان میں تھے یاد رہتے تو چور ہو جاتے خواب کیا کیا مرے گمان میں تھے یاد ہے ہم بھی کار آمد تھے تیر تھے اور تری کمان میں تھے کس قدر ہو چلی ہے بے زاری دل میں بھی ہم تھے ہم تو جان میں تھے

غزل · Ghazal

aankh kaa ishaara hai

آنکھ کا اشارہ ہے ہم پہ آشکارا ہے تیر نیم کش ہے کب یہ نظر تو آرا ہے ہے جو عشق کا چکر سر بہ سر خسارہ ہے درد کی حکومت ہے اور دکھ سہارا ہے اے مری متاع جاں ہم میں کیا ہمارا ہے دل کو غم ہیں دنیا کے اور دل تمہارا ہے ہجر دو گھڑی کا ہی آگ ہے شرارہ ہے مجھ میں ایک دریا ہے اور اک کنارہ ہے

Similar Poets