Abul Mohamid Hamid
سلگتی شب کا پر اسرار منظر جاگتا ہوگا مکیں خوابوں میں گم ہوں گے مگر گھر جاگتا ہوگا جو ممکن ہو تو پتھریلی چٹانیں توڑ کر دیکھو مرے اندر بڑا گہرا سمندر جاگتا ہوگا کیا پتھراؤ جن ہاتھوں نے مجھ پر سو چکے ہوں گے مگر اک ایک خوں آلودہ پتھر جاگتا ہوگا سسکتے شہر میں کچھ اونگھتی پرچھائیاں ہوں گی معلق ہے خلاؤں میں جو خنجر جاگتا ہوگا کسے تم ڈھونڈتے حامدؔ ہو ان ویران سڑکوں پر چلو روشن محل کی سمت اخترؔ جاگتا ہوگا
sulagti shab kaa pur-asraar manzar jaagtaa hogaa
42 views