
Adeeb Malegavi
Adeeb Malegavi
Adeeb Malegavi
Ghazalغزل
duniyaa ki jafaaein bhuul gaiin taqdir kaa shikva bhuul gae
دنیا کی جفائیں بھول گئیں تقدیر کا شکوہ بھول گئے جب ان سے نگاہیں چار ہوئیں سب اپنا پرایا بھول گئے اک مست نظر نے ساقی کی رندوں پہ کچھ ایسا سحر کیا فکر مے و مینا کیا کہئے ذکر مے و مینا بھول گئے ہم اور کسی کی بزم طرب یہ راز سمجھ میں آ نہ سکا اے عشق کہیں ایسا تو نہیں وہ ہم کو بھلانا بھول گئے اس جان بہاراں نے جب سے منہ پھیر لیا ہے گلشن سے شاخوں نے لچکنا چھوڑ دیا غنچے بھی چٹکنا بھول گئے رحمت کا سبب تھی پرسش غم لیکن یہ تماشا خوب رہا وہ چھیڑ کے سننا بھول گئے ہم کہہ کے سنانا بھول گئے کلفت میں مزے آسائش کے پھولوں پہ گماں انگاروں کا نشے میں جوانی کے گویا ہم فطرت دنیا بھول گئے برباد غم ایسے ایسے بھی دیکھے ہیں اسی دنیا میں کبھی ہم جن کی شکستہ حالی پر دو اشک بہانا بھول گئے اندازۂ سوز غم نہ کیا یہ بھول ہوئی ہم سے پہلے پھر اس پہ قیامت وہ اپنے دامن کو بچانا بھول گئے طوفان محبت میں ہم نے پایا ہے ادیبؔ اس طرح سکوں آنکھوں سے کنارا اوجھل تھا دل سے بھی کنارا بھول گئے
husn kaabe kaa hai koi na sanam-khaane kaa
حسن کعبے کا ہے کوئی نہ صنم خانے کا صرف اک حسن نظر ہے ترے دیوانے کا عشق رسوا بھی ہے مجبور بھی دیوانہ بھی اور ابھی خیر سے آغاز ہے افسانے کا کار فرما ترے جلوؤں کی کشش ہے ورنہ شمع سے دور کا رشتہ نہیں پروانے کا یہی تکمیل محبت کی ہے منزل شاید ہوش اپنا مجھے باقی ہے نہ بیگانے کا کون سمجھے گا مرے درد محبت کو یہاں ہے حقیقت مگر انداز ہے افسانے کا حسن خود صرف تماشا ہو دو عالم کیا ہے پردہ اٹھے تو سہی عشق کے دیوانے کا صبح کی چھاؤں میں چونکے تو ہیں غافل لیکن شمع کا سوگ کہ ماتم کریں پروانے کا تم نے برباد کیا بھی تو اس احسان کے ساتھ جیسے مدت سے مجھے شوق تھا مٹ جانے کا دشت غربت سے پلٹتا ہوں میں جب سوئے وطن پوچھ لیتا ہوں نشاں برق سے کاشانے کا جھلملاتے ہوئے تاروں پہ یہ ہوتا ہے گماں یہ بھی اک رنگ ہے گویا مرے افسانے کا اہل مے خانہ لئے پھرتے ہیں آنکھوں میں ادیبؔ ریزہ ریزہ مرے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا
bazm-e-hasti ko ba-sad-hasrat-e-taamir na dekh
بزم ہستی کو بصد حسرت تعمیر نہ دیکھ شمع سے ربط بڑھا شمع کی تنویر نہ دیکھ سوز فطرت کہیں کاغذ پہ اتر سکتا ہے میرا دل دیکھنے والے مری تصویر نہ دیکھ تیری شرمندہ نگاہی کی قسم ہے تجھ کو کس کے سینے میں اترتی ہے یہ شمشیر نہ دیکھ توڑ سکتا ہے طلسم سحر و شام جنوں طوق گردن پہ نہ جا پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ بارے کام آ تو گیا خون تمنا اے دوست مرا افسانہ مری شوخیٔ تحریر نہ دیکھ چھوڑ جانا ہے تجھے نقش چمن میں اپنا فکر انجام نہ کر حاصل تدبیر نہ دیکھ تجھ کو فطرت کے تقاضوں کی خبر کیا زاہد دیکھ رحمت کی نگاہیں مری تقصیر نہ دیکھ دل کی ہر لغزش معصوم پہ سو خلد نثار مستیٔ جرم سمجھ شورش تعزیر نہ دیکھ دیکھ اس کو کہ جئے جاتا ہے ہنس ہنس کے ادیبؔ مجھ سے پیش آتی ہے کیونکر مری تقدیر نہ دیکھ
gham de ke gham-gusaar hue bhi to kyaa hue
غم دے کے غم گسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے تڑپا کے بے قرار ہوئے بھی تو کیا ہوئے کرنا تھا داغ بن کے کسی دل میں روشنی شمع سر مزار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہونا تھا آپ اپنے چمن میں شگوفہ کار شرمندۂ بہار ہوئے بھی تو کیا ہوئے مٹتے کسی کے عشق میں اے دل تو بات تھی برباد روزگار ہوئے بھی تو کیا ہوئے دل بھی ہے پاش پاش سفینہ بھی پاش پاش طوفان غم سے پار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ویرانیاں دیار محبت میں ہیں وہی تم غیرت بہار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہیں سرنگوں ہنوز تمہارے نیاز مند تم اہل اختیار ہوئے بھی تو کیا ہوئے سینے میں دل کے نام سے اب خاک بھی نہیں اب آپ شرمسار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہنس ہنس کے جھیلنا ہے ہر افتاد شوق کو رو رو کے کامگار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہے سامنا فریب محبت کا ہر نفس اک ان سے ہوشیار ہوئے بھی تو کیا ہوئے برہم اگر سکون دو عالم نہ ہو سکا یوں حسن پر نثار ہوئے بھی تو کیا ہوئے ہے زندگی ادیبؔ کی اب بھی حجاب میں ہم اس کے راز دار ہوئے بھی تو کیا ہوئے
aah lab tak dil-e-naakaam na aane paae
آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے ضبط غم پر کوئی الزام نہ آنے پائے میں سناتا تو ہوں روداد محبت لیکن درمیاں میں جو ترا نام نہ آئے پائے تم نے چاہا بھی تو کیا دشمن راحت بن کر کوئی دنیا میں مرے کام نہ آنے پائے محفل عشق میں چھا جائے گا اک سناٹا یوں تڑپتا ہوں کہ آرام نہ آنے پائے دیکھ پائے نہ ستاروں کی نظر بھی تم کو آؤ اس طرح کہ الزام نہ آنے پائے منزل شوق میں کہتا ہے جنوں مجھ سے ادیبؔ دل میں اندیشۂ انجام نہ آنے پائے
har ek shai pe hai partav-fagan bahaar kaa rang
ہر ایک شے پہ ہے پرتو فگن بہار کا رنگ گلوں کا حسن جدا ہے الگ ہے خار کا رنگ لہو میں جیسے مچلتے ہوں برق پارے سے یہ انتظار کا عالم یہ انتظار کا رنگ کچھ آج دل کی خرابی گزر گئی حد سے اڑا اڑا سا ہے ہر ایک غم گسار کا رنگ کبھی تو سن مری بیتابئ فراق کا حال کبھی تو دیکھ مری چشم اشکبار کا رنگ ترے کرم سے بھی نیت نہ عشق کی بدلی وہی ہے فطرت معصوم و سادہ کار کا رنگ بلاؤ اہل جنوں کو کسی بلندی سے بگڑ چلا ہے بہت بزم روزگار کا رنگ ادیبؔ کاوش غم کام کر گئی شاید اب ان کے رخ سے جھلکنے لگا ہے پیار کا رنگ





