Adeel Shakir
Adeel Shakir
Adeel Shakir
Ghazalغزل
kaash hoti vafaa zamaane mein
کاش ہوتی وفا زمانے میں پر حقیقت کہاں فسانے میں لوگ اوقات بھول جاتے ہیں دوسروں کا مذاق اڑانے میں سوچتا ہوں کبھی کبھی یوں ہی حرج کیا تھا اسے منانے میں ہم پڑے ہیں دیار غیر میں یوں جیسے لاشیں ہوں سرد خانے میں کیا کہیں اک ادھورے قصے کو لگ گئی عمر کیوں بھلانے میں روز ہی سانس پھول جاتی ہے زندگانی کے ناز اٹھانے میں حیف بھیجا گیا ہوں میں شاکرؔ اتفاقا غلط زمانے میں
ik duuje ko aaina dikhaaein chalo aao
اک دوجے کو آئینہ دکھائیں چلو آؤ یہ آخری تکلیف اٹھائیں چلو آؤ یوں ہے کہ منافع کا تو امکاں ہی نہیں ہے نقصان کا اندازہ لگائیں چلو آؤ مدت سے کھنڈر دل کا بھی ویران پڑا ہے کچھ دیر یہیں خاک اڑائیں چلو آؤ ہیں جال تو یاروں نے بچھائے بھی پر اب کے دشمن کی چلی چال میں آئیں چلو آؤ اس تک ہے سفر لاکھ سرابوں سے مزین شاکرؔ نہ کہیں خود سے بھی جائیں چلو آؤ
har ik uThaan ke laakhon hain imtihaan miyaan
ہر اک اٹھان کے لاکھوں ہیں امتحان میاں پکارتا ہے پرندوں کو آسمان میاں نکلنا پڑتا ہے آخر کو اپنے اندر سے وہاں بھی ملتی نہیں مستقل امان میاں ہے کارخانہ توہم کا یہ بقول میرؔ سو جانتے ہیں یقیں کو بھی ہم گمان میاں تھا اس سے پہلے بھی کوئی مکین دل اپنا اور اس کے بعد بھی خالی نہیں مکان میاں یہ اور بات کہ جسموں کے بھی تقاضے تھے ہم اس کی جان تھے اور وہ ہماری جان میاں ہیں گو کہ ہم بھی ترے خیر خواہ پر شاکرؔ یہ کب کہا کہ ہماری ہی بات مان میاں
rakhte the tasviron se divaar-o-dar aabaad
رکھتے تھے تصویروں سے دیوار و در آباد ایسے بھی کچھ شہر ہوئے ہیں مٹ مٹ کر آباد سر آباد خیالوں سے خوابوں سے نگر آباد ایک جہاں ہے باہر اپنے اک اندر آباد عشق تھا اپنی جگہ اٹل سمجھوتہ اپنی جا ایک سے دل آباد رہا اور ایک سے گھر آباد ساگر ساگر رونے والے رو کر پھر مسکائے رات رہے جو بستی ویراں کرے سحر آباد آؤ پھر سے جینا سیکھیں بسنا بسانا سیکھیں جیسے پرند شجر سے ہیں اور ان سے شجر آباد آج تو لگتا ہے ہر منظر ناچ رہا ہے شاکرؔ اندر سکھ کی دھوم مچی سو باہر ہے آباد
ik taraf vo fikr-e-fardaa zehn parchhaai hui
اک طرف وہ فکر فردا ذہن پرچھائی ہوئی اک طرف یہ زندگی یادوں کی ٹھہرائی ہوئی لاکھ کوشش کی نہ بڑھ پائیں دلوں کی رنجشیں پر کہاں رکتی ہے شیشے میں دراڑ آئی ہوئی سرد راتوں کی فضا میں گرم رکھتی ہے مجھے شال ماں کے کانپتے ہاتھوں کی پہنائی ہوئی لے اڑی ہے تیری سانسوں کی مہک شاید ہوا کیا سبب ورنہ کہ یوں پھرتی ہے اترائی ہوئی وہ خوشی کے روز و شب ہوں یا کہ شاکرؔ غم کا دور کیفیت وہ ہی بھلی ہے ہو جو راس آئی ہوئی





