SHAWORDS
Aditya Shrivastava Shafaq

Aditya Shrivastava Shafaq

Aditya Shrivastava Shafaq

Aditya Shrivastava Shafaq

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہمیں ان سے محبت ہے ضرورت سے زیادا ہی انہیں ہم سے شکایت ہے ضرورت سے زیادہ ہی ستارے رشک کرتے ہیں نظارے رشک کرتے ہیں مری جاں خوب صورت ہے ضرورت سے زیادہ ہی ملا ہے ہم نوا ایسا جو میرا ہم زباں بھی ہے پسند اس کو بھی ثروتؔ ہے ضرورت سے زیادہ ہی فرشتوں کو سناؤں گا میں برگ گل کے افسانے کہانی میں صداقت ہے ضرورت سے زیادہ ہی خلاؤں میں چلا جاتا ہوں اکثر گھومنے کو میں زمیں پر پھیلی نفرت ہے ضرورت سے زیادہ ہی وراثت میں بھلا لے گی بھی کیا نسل فر و مایہ غزل میں بھی سیاست ہے ضرورت سے زیادہ ہی غزل سپنے میں کہنے آئی تھی کل بات یہ مجھ سے مجھے تیری ضرورت ہے ضرورت سے زیادہ ہی نکیر و منکر و رضواں سنیں گے شعر اب میرے شفقؔ کی ان کو چاہت ہے ضرورت سے زیادہ ہی

hamein un se mohabbat hai zarurat se ziyaadaa hi

41 views

غزل · Ghazal

مٹی ہستی ہماری بد گمانی میں مرے تھے پیاس سے دریا کے پانی میں کہانی خود کشی پہ ہو گئی مجبور کوئی کردار تھا ایسا کہانی میں ہے ممکن داد دیتے آپ رو بھی دے فنا شاعر ہوا مطلع کے ثانی میں مرا ارماں جو ٹوٹا تو لگا جیسے کسی کا بیٹا دم توڑے جوانی میں شفقؔ کے شعر پڑھنا جو ملے فرصت ملے گا فلسفہ تم کو معانی میں

miTi hasti hamaari bad-gumaani mein

41 views

غزل · Ghazal

بھول بیٹھے ساری دنیا عاشقی کی خاطر عاشقی بھی چھوڑ دی پھر نوکری کی خاطر مار ڈالا ہر خوشی کو خامشی کی خاطر کیا نہیں اس نے کیا میری ہنسی کی خاطر مفلسی ایسی عدو کو بھی نہ بخشے مولیٰ بیچنا ہو جو چراغاں روشنی کی خاطر جانے کتنے لوگ گزرے مجھ سے ہو کر بھائی منتظر میں رہ گیا اک آدمی کی خاطر زندگی کو زندگی سمجھا نہیں جانے کیوں زندگی بھی جا رہی تھی زندگی کی خاطر قید کرنا چاہتے تھے لوگ سورج گھر میں میں لڑا کیوں روشنی سے تیرگی کی خاطر زیست کو بھی اک تماشہ ہی بنا کر رکھا اے شفقؔ کیا تم نے چھوڑا شاعری کی خاطر

bhuul baiThe saari duniyaa aashiqi ki khaatir

41 views

غزل · Ghazal

جاتے جاتے یہ تکلف بھی نبھاتے جائیے عشق کے ظلم و ستم سارے بھلاتے جائیے مفلسوں کو اک زباں اس کے لیے دے دی گئی صاحبوں کی ہاں میں بس ہاں ہاں ملاتے جائیے راہ بربادی پہ جانا ہے تو جائیں شوق سے ہاں مگر اپنے یہ نقش پا مٹاتے جائیے سرحدیں ہو ختم ساری ختم ہو سب بھید بھاؤ خوں سے میرے ایسا اک نقشہ بناتے جائیے گفتگو کرنی ہے سنجیدہ شفقؔ سے آپ کو شعر کہئے اور ٹھہاکے بھی لگاتے جائیے

jaate jaate ye takalluf bhi nibhaate jaaiye

41 views

غزل · Ghazal

جب جہاں میں پیٹ سب کا ہی ہے بھرتی روٹی منہ چڑھاتی روز و شب پھر کیوں مرا ہی روٹی روز چولھے میں جلاتا ہے جو خود داری کو بھوک پھر اس کی مٹائے کیسے اس کی روٹی عمر اتنی تھی کہ روٹی ماں کے ہاتھوں کھاتا مجھ کو تو اس عمر میں کھانے لگی تھی روٹی ناچتی ہے بھوک جب بھی چار دن آنگن میں تب لہو کی میرے قیمت صرف لگتی روٹی جس نے اوروں کے خزانے زندگی بھر تھے بھرے مرتے مرتے وہ بھی چلایا تھا روٹی روٹی خون اس کا کھیت میں بہتا ہے جیسے پانی بنتی ہے جس کے پسینے سے سبھی کی روٹی لوگ تو کرتے ہیں ایماں کا بھی سودا اکثر داؤں پہ لگتی ہے جب ان کی یہ پیاری روٹی دور غربت میں بھی کرتا ہے شفقؔ یہ دعویٰ مر بھی جائے تو نہ کھائے شاعری کی روٹی

jab jahaan mein peT sab kaa hi hai bharti roTi

41 views

Similar Poets