SHAWORDS
Aditya Tiwari Shams

Aditya Tiwari Shams

Aditya Tiwari Shams

Aditya Tiwari Shams

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

ek kamraa ghazal kitaabein gham

ایک کمرا غزل کتابیں غم خواب وہ کچھ کہانیاں اور ہم ٹھوکریں ہجر حاجتیں اور میں ایک ہی زخم ہے کئی مرہم زندگی سی ہیں تیری زلفیں اور حادثوں سے ہیں ان میں پیچ و خم نوکری نام اور شہرت میں شکر ہے بنٹ گئے ہیں میرے غم جو قلندر ہے اک ریاست کا اس کو تحفے میں خاک دیں گے ہم ہے کسی شمسؔ کی نظر اس پر اس سے انجان ہے کوئی شبنم

غزل · Ghazal

jism se saari rasm karte hain

جسم سے ساری رسم کرتے ہیں روح سے کفر سے گزرتے ہیں ایسی وابستگی بھی ٹھیک نہیں ہم اسی اور اسی پہ مرتے ہیں دوست جو آگے بڑھ گئے مجھ سے سچ کہوں تو بہت اکھرتے ہیں ان کا اور اپنا میل ہے ہی نہیں وہ تو بد نامیوں سے ڈرتے ہیں ایک سے ہیں ہماری زیست و مکاں ان میں تنہا ہمیں ٹھہرتے ہیں کیا سبب ہے کہ شمسؔ سب سائے روشنی میں ہی صرف ابھرتے ہیں

غزل · Ghazal

ek dhoka hai khush nahin huun main

ایک دھوکہ ہے خوش نہیں ہوں میں کون کہتا ہے خوش نہیں ہوں میں ایک رشتہ بچانا ہے جس میں وہ بھی تنہا ہے خوش نہیں ہوں میں کیا سبب ہے کہ صرف میرے بجز سب کو لگتا ہے خوش نہیں ہوں میں خوش مزاجی میں شاعری کیسی پھر تو اچھا ہے خوش نہیں ہوں میں کیا ستم ہے کہ تم کو پا کر بھی ایسا لگتا ہے خوش نہیں ہوں میں یار ایسے ہیں کیا کہوں تم سے یار ایسا ہے خوش نہیں ہوں میں

غزل · Ghazal

ik nadi bas mujhe khushi degi

اک ندی بس مجھے خوشی دے گی آب دے گی یا تشنگی دے گی زندگی کہہ رہی تھی وہ مجھ کو موت کے بعد ہر خوشی دے گی تجھ کو پانے کا راستہ مجھ کو تو نہیں تو تری کمی دے گی مر بھی جائیں اگر چلے معلوم واقعی موت موت ہی دے گی زندگی خاک کی طرح ہے شمسؔ پھول دے گی تو خار بھی دے گی

غزل · Ghazal

miri ye zindagi had se ziyaada kyaa hogi

مری یہ زندگی حد سے زیادہ کیا ہوگی بہت زیادہ بھی ہوگی تو بس فنا ہوگی کسی کم عقل کا کلمہ بھی ہوگا اک بکواس کسی ذہین کی گالی بھی فلسفہ ہوگی بھگت رہا ہوں سزا ماضی کی میں بن کر خار اور آج خار ہوں کل اس کی بھی سزا ہوگی تمہارے بعد مجھے موت سے بھی کیا ہوگا تمہارے بعد مری زندگی بھی کیا ہوگی مرے جہان میں آنے کا کیا سبب ہے شمسؔ مرے جہان سے جانے کی وجہ کیا ہوگی

غزل · Ghazal

jab mujhe maut aa rahi hogi

جب مجھے موت آ رہی ہوگی سامنے پوری زندگی ہوگی چیخ کر کوئی تھک چکا ہوگا تب کہیں خامشی ہوئی ہوگی سوچتا ہوں کہ جب نہ ہو گے تم بعد بھی اس کے زندگی ہوگی ہجر کی شب کے بعد میرے لیے ہجر کی ایک صبح بھی ہوگی بات راجہ پہ آ گئی ہے اب اس کو پیادوں کی فکر بھی ہوگی میرے آنے سے کیا بڑھا تھا کچھ میرے جانے سے کیا کمی ہوگی میرے محفل سے جانے پر بھی شمسؔ دم بدم یوں ہی شاعری ہوگی

Similar Poets