SHAWORDS
Adnan Ahmad

Adnan Ahmad

Adnan Ahmad

Adnan Ahmad

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اک اک کر کے پولیں ساری کھولوں گا لیکن اتنی جلدی تھوڑی کھولوں گا اس خوشبو سے بس اس کو مہکانا ہے میں موقع آنے پر شیشی کھولوں گا مل جائے گا چہرہ میرے مطلب کا تب جا کر آنکھوں کی پٹی کھولوں گا تم نے وقت لیا تھا سکہ چننے میں سو میں بھی اب دیر سے مٹھی کھولوں گا یوں نہ لگے میں اس کی راہ میں بیٹھا تھا اس باری آرام سے کنڈی کھولوں گا کلاس میں بیٹھے گھنٹوں دیکھوں گا اس کو ٹیچر ٹوکے گی تب کاپی کھولوں گا سوچو مت بس باندھو میرے ہاتھوں کو پھر میں جانوں کیسے رسی کھولوں گا

ik ik kar ke polein saari kholungaa

41 views

غزل · Ghazal

کھیل تو بالکل عیاں ہے چور گھر کا پاسباں ہے سو گئی ہے روح کب کی بس بدن ہی تو رواں ہے ہے بڑی لمبی کہانی آسماں پر آسماں ہے گونجتی آواز کوئی شخص کوئی ہم زباں ہے جانتا ہوں سب حقیقت یہ مجھے کیسا گماں ہے جو بھی چاہے جڑ رہا ہے عشق ہے یا کارواں ہے مسئلہ پوچھا کہ کیا ہے تو فلاں بولا فلاں ہے جو رہے تھے مر گئے سب جو بچا ہے وہ مکاں ہے جانتا ہے باغ سارا خوب شاطر تتلیاں ہے

khel to bilkul ayaan hai

41 views

غزل · Ghazal

میری اس دھڑکن کی سرگم یعنی تم میرے ان زخموں کا مرہم یعنی تم مٹی دلدل کالے بادل یعنی میں جھیل و جھرنے اچھا موسم یعنی تم لوگوں کا غم ہوں میں میرا غم یہ دل ہاں لیکن میرے دل کا غم یعنی تم اک خاموش کھڑی دلہن ہے یہ دنیا دلہن کی پائل کی چھم چھم یعنی تم تم کو سوچا تو ایسی تصویر بنی ہنستا چہرہ اور آنکھیں نم یعنی تم

meri is dhaDkan ki sargam yaani tum

41 views

غزل · Ghazal

اجازت جو ہوتی تو اک بار روتا میں دو تین گھنٹے لگاتار روتا یہ مذہب نہ ہوتے اگر بیچنے کو دکانیں بھی روتی یہ بازار روتا میں گھر آ گیا ہوں سڑک رو رہی ہے اگر میں نہ آتا تو گھر بار روتا یہ کہہ کر کہ رونا ہے کمزور کا کام میں منہ کو چھپا کر میرے یار روتا کوئی مجھ سے کہتا کہ جی بھر کے رو لے تو تیری قسم ہے میں ہر بار روتا نہ ہوتا کوئی ہم سا دربان تو پھر وہاں تخت روتے وہ دربار روتا بھگا تو وہ دیتا قبیلے سے مجھ کو مگر پھر قبیلے کا سردار روتا

ijaazat jo hoti to ik baar rotaa

41 views

غزل · Ghazal

بات یہ ہم لوگ اکثر سوچتے ہیں سوچنے سے ہوگا کیا پر سوچتے ہیں گھر چلے آتے ہیں جن سے بچ بچا کر وہ ہی چیزیں گھر پہ آ کر سوچتے ہیں رات کو ہم دیکھتے ہیں خواب تیرے اور پھر وہ خواب دن بھر سوچتے ہیں ہم کو تو یہ کام آتا بھی نہیں پر بات تیری ہو تو پھر پھر سوچتے ہیں بولتے ہیں سوچنا ہی چھوڑ دیں گے اور خود کو چپ کرا کر سوچتے ہیں ملک دونوں کا ہے مشکل دونوں کی ہے آؤ حل بھی ساتھ مل کر سوچتے ہیں

baat ye ham log aksar sochte hain

41 views

Similar Poets