SHAWORDS
Adnan Asar

Adnan Asar

Adnan Asar

Adnan Asar

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

سو جہاں اور بھی ہیں وسعت افلاک میں گم اور تو رہتا ہے ہر وقت یہاں خاک میں گم ڈوبے رہتے ہیں تری یاد میں ہم بھی ایسے کوزہ گر جیسے ہمہ وقت رہے چاک میں گم اٹھنے والا ہے زمیں سے کسی محشر کا غبار ہونے والے ہیں ستارے خس و خاشاک میں گم اس کو دیکھوں گا میاں جب ہی تھمے گا طوفان ہے ابھی چاند مرے دیدۂ نمناک میں گم رقص کرتے ہوئے درویش کو معلوم ہے سب کتنے ادوار ہیں اڑتی ہوئی اس خاک میں گم مسئلے زیست کو درپیش زمیں پر ہیں اثرؔ ہم ہوئے جاتے ہیں اس حیرت افلاک میں گم

sau jahaan aur bhi hain vus'at-e-aflaak mein gum

41 views

غزل · Ghazal

ہم اک پری کی محبت میں مبتلا ہو کر ہوئے ہیں قید کسی گمشدہ جزیرے پر تو میں یہ سمجھوں کہ رستہ بھٹک گیا ہوگا اگر وہ شام کو بھی لوٹ کر نہ آیا گھر بہت سے لوگ تو خود کو خدا سمجھتے تھے مگر کسی کے بھی آگے نہیں جھکایا سر وہ ایک رات ترے ہجر کی وہ پہلی رات طویل اتنی تھی جیسے ہو عرصۂ محشر کسی کے خواب سے منسوب ہے یہ بینائی میں پھوڑ دوں گا یہ آنکھیں بصورت دیگر

ham ik pari ki mohabbat mein mubtalaa ho kar

41 views

غزل · Ghazal

ہم کو جہان شوق کا منظر نہیں ملا رستے کی تیز دھوپ ملی گھر نہیں ملا تجھ میں جو بات ہے وہ کسی اور میں کہاں تجھ سا کوئی بھی شخص کہیں پر نہیں ملا خود ہی چنا تھا میں نے محبت کا راستہ کوئی بھی درد خود مجھے آ کر نہیں ملا ڈر تھا اسے وبا کا ہی پاس وفا نہ تھا آیا تو مجھ کو دل سے لگا کر نہیں ملا اب کے برس میں گاؤں سے لوٹا بخیریت رستے میں اس کی یاد کا لشکر نہیں ملا موجود تو تھے ظاہری اسباب بھی تمام پھر سوچتا ہوں وہ مجھے کیونکر نہیں ملا آئے اور آ کے دیکھ لے دامن کی دھجیاں جس کو کہیں دیار ستم گر نہیں ملا

ham ko jahaan-e-shauq kaa manzar nahin milaa

41 views

غزل · Ghazal

جس کی اک دید بھاؤ ہے دل کا اس کی جانب جھکاؤ ہے دل کا عقل ہر چیز سے الجھتی ہے کتنا اچھا سبھاؤ ہے دل کا تیری یادیں بھی جھونک دی اس میں یہ جو روشن الاؤ ہے دل کا وہ جسے لوگ عشق کہتے ہیں سچ کہوں تو لگاؤ ہے دل کا ہے روانی میں زندگی اس کی اک ندی سا بہاؤ ہے دل کا تو نہ آئے تو تھمنے لگتا ہے مجھ پہ کتنا دباؤ ہے دل کا دیکھتا بھی نہیں کسی جانب اس گلی میں پڑاؤ ہے دل کا کسی اپنے کا تیر تھا عدنانؔ کیا دکھاؤں جو گھاؤ ہے دل کا

jis ki ik diid bhaao hai dil kaa

41 views

غزل · Ghazal

تو نے مجھ کو نہ غزل گوئی عطا کی ہوتی میں بھی تنہائی میں دیوار سے باتیں کرتا تجھ پہ ہی راز تمنا کے سبھی در کھولے کیا تجھے چھوڑ کے اغیار سے باتیں کرتا عین ممکن تھا کہ اندر کی گھٹن گھٹ جاتی کوئی ہوتا ترے بیمار سے باتیں کرتا رنگ بھرنا تھا کہانی میں حقیقت کا تجھے اپنے لکھے ہوئے کردار سے باتیں کرتا میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی ہے کہ میں اپنے ہی ملک کے غدار سے باتیں کرتا

tu ne mujh ko na ghazal-goi 'ataa ki hoti

41 views

غزل · Ghazal

اب آ بھی جاؤ کہ شام و سحر کھلے ہوئے ہیں تمہارے واسطے آنکھوں کے در کھلے ہوئے ہیں وہ ماہتاب ابھی تک نہیں کھلا ہم پر ابھی تو رنگ بہت مختصر کھلے ہوئے ہیں کھلے ہوئے ہیں جہانوں کے در اسی جانب ترے جمال کے دفتر جدھر کھلے ہوئے ہیں تو میرے سامنے آیا تو ایسے لگتا ہے ہزاروں آئنے پیش نظر کھلے ہوئے ہیں انہیں سمجھنے میں یہ مسئلہ بھی ہے درپیش وہ لوگ مجھ پہ بہت مختصر کھلے ہوئے ہیں اٹھا رہا ہوں میں لذت سفر کی ہر لمحہ مرے وجود پہ کتنے سفر کھلے ہوئے ہیں سزائیں سہنے سے ڈرتے نہیں ہیں اہل جنوں ہماری جان پہ وحشت کے در کھلے ہوئے ہیں قفس سے دیکھ رہے ہیں بس آسماں عدنانؔ پرند قید ہیں اور بال و پر کھلے ہوئے ہیں وہ میرے پاس بھی ہے اور پاس ہے بھی نہیں تضاد کیسے یہ عدنان اثرؔ کھلے ہوئے ہیں

ab aa bhi jaao ki shaam-o-sahar khule hue hain

41 views

Similar Poets