SHAWORDS
A

Adnan Asif Bhatta

Adnan Asif Bhatta

Adnan Asif Bhatta

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

tamaam falsafe baatil banaa diye gae hain

تمام فلسفے باطل بنا دئے گئے ہیں اور اہل علم بھی قاتل بنا دئے گئے ہیں عقیدہ اوڑھنے والے تو تھے برہنہ روح فقیر لوگ بھی غافل بنا دئے گئے ہیں کسی کا دھیان گیا کیوں نہ ما سعیٰ کی طرف دعا کے نام پہ کاہل بنا دئے گئے ہیں اطاق ذہن کی دیواریں خوں سے لت پت ہیں پرندے فوٹو میں گھائل بنا دئے گئے ہیں خبر ملی تھی اسے گیلی ریت بھاتی ہے تمام شہر میں ساحل بنا دئے گئے ہیں

غزل · Ghazal

vo husn hai vo husn-e-be-misaal hai kamaal hai

وہ حسن ہے وہ حسن بے مثال ہے کمال ہے یہ عشق ہے یہ عشق لازوال ہے کمال ہے شراب کا جو جام ہے حرام ہے ملام ہے جو آدمی کا خون ہے حلال ہے کمال ہے یہ دل ترا فقیر ہے امیر ہے کبیر ہے قلندرانہ حال ہے دھمال ہے کمال ہے فراق ہے فراق ہے سکون ہے سکون ہے وصال ہے وصال ہے کمال ہے کمال ہے میں دیکھتا ہوں خواب میں علی حسن حسین ہیں حضور ہیں اویس ہے بلال ہے کمال ہے

غزل · Ghazal

dekh lail-o-nahaar se baahar

دیکھ لیل و نہار سے باہر زندگی ہے قطار سے باہر ایسے کوئی خمار میں بھی نہیں جیسے ہم ہیں خمار سے باہر کہف والوں سے تھک چکا تھا میں آن بیٹھا ہوں غار سے باہر ہم گزشتہ زمانوں کے عاشق ہو رہے ہیں شمار سے باہر کھل کے ہنسیو نشے کی حالت میں غم ہی غم ہیں خمار سے باہر داد بنتی ہے پھول کی آصفؔ جو کھلا ہے بہار سے باہر

غزل · Ghazal

zamin-e-chashm ke siine pe paanv dharte ashk

زمین چشم کے سینے پہ پاؤں دھرتے اشک جہان ہجر سے شوریدہ سر گزرتے اشک غنیم نغمۂ عشرت کو کیا دکھائی دیں غریب شہر کی آنکھوں میں رقص کرتے اشک مسیح بن کے لباس وصال اترا ہے کسی کی شال پہ گر کر جئے ہیں مرتے اشک نمک ہے آنکھ کا ست رنگیاں نہاتا ہوا قبائے زخم کے ریشوں میں رنگ بھرتے اشک ہمارا گریہ مؤخر ہوا تسلی سے دلاسہ دیتی نظر سے چھپے ہیں ڈرتے اشک

غزل · Ghazal

hijr aasaan banaa liyaa ham ne

ہجر آساں بنا لیا ہم نے دشت میں دل لگا لیا ہم نے سانس آدھا تمہارے ساتھ لیا اور آدھا بچا لیا ہم نے تیرا غم تھا مسیح و مہدی ہمیں اس کو زندہ اٹھا لیا ہم نے پانی سے توڑ یا اٹھا تیشہ دل کو پتھر بنا لیا ہم نے ذکر آیا تمہاری نگری کا اور سر کو جھکا لیا ہم نے کوئی آفت ضرور ٹوٹی ہے جب بھی نام خدا لیا ہم نے

غزل · Ghazal

shadid rut mein mujhe jis kaa Dar ziyaada thaa

شدید رت میں مجھے جس کا ڈر زیادہ تھا گرا شجر وہی جس پر ثمر زیادہ تھا مرے عدو کا کوئی وار بھی نہیں چوکا مری صفوں میں کہیں ایک سر زیادہ تھا پلٹ کے آئے تو گھوڑوں کی پشتیں خالی تھیں مری سپاہ میں مرنے کا ڈر زیادہ تھا گزشتہ رات قیام و سجود میں گزری گزشتہ رات قیامت کا ڈر زیادہ تھا بٹا ہے آج تو سب دم گھٹے سے مرتے ہیں تمام بھائیوں کو ایک گھر زیادہ تھا

Similar Poets