Afaq Fakhri
کیا ضروری کہ گروں میں تو سنبھالے کوئی اور مرے پاؤں کا کانٹا بھی نکالے کوئی خوشبوؤں کی طرح چاہیں گے زمانے والے پہلے کردار کو پھولوں سا بنا لے کوئی آج کے دور میں شہرت کی تمنا ہو اگر اپنے چہرے پہ کئی چہرے لگا لے کوئی اک دیا ہم نے جلایا جو سر راہ گزر کر نہ دے اس کو ہواؤں کے حوالے کوئی شب کی تاریکی میں بھی نور کا عالم ہوگا پہلے پلکوں پہ ستاروں کو سجا لے کوئی چاہے تو اپنے ہر اک حسن عمل سے آفاقؔ اپنے ماں باپ کی ہر وقت دعا لے کوئی
kyaa zaruri ki girun main to sanbhaale koi
41 views