Afsar Aurangabadi
وہ سرخ لب غضب سے گر آوے سخن کے بیچ
وہ سرخ لب غضب سے گر آوے سخن کے بیچ کیا نقش بیٹھے واہ عقیق یمن کے بیچ قاتل لہو سے غسل تو دے کر لپیٹیو ہم بسملوں کی نعش گلابی کفن کے بیچ روشن نہ کیجو شمع کو زنہار دیکھنا پروانہ ساں جلوں گا ابھی انجمن کے بیچ افسرؔ دل و جگر کہیں جل جل نہ جائیں ہائے بے طرح شعلے آہوں کے بھڑکے ہیں تن کے بیچ