SHAWORDS
A

Aftab Arif

Aftab Arif

Aftab Arif

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

پیاسی ہیں رگیں جسم کو خوں مل نہیں سکتا سورج کی حرارت سے سکوں مل نہیں سکتا بنیاد مرے گھر کی ہواؤں پہ رکھی ہے ڈھونڈے سے کوئی سنگ ستوں مل نہیں سکتا سب کے لیے لازم نہیں سمتوں کا تعین میں راہ کی اس بھیڑ میں کیوں مل نہیں سکتا اٹھا تھا بگولہ سا اڑا لے گیا سب کچھ سوچا کیا میں خاک میں خوں مل نہیں سکتا آ جاؤ پہ مجھ سے کوئی امید نہ رکھو مل جاؤں گا میں یاں وہ جنوں مل نہیں سکتا

pyaasi hain ragein jism ko khuun mil nahin saktaa

41 views

غزل · Ghazal

پچھتا رہے ہیں درد کے رشتوں کو توڑ کر سر پھوڑتے ہیں اپنے ہی دیوار و در سے لوگ پتھر اچھال اچھال کے مرہم کے نام پر کرتے رہے مذاق مرے زخم میرے لوگ کب ٹوٹے دیکھیے مرے خوابوں کا سلسلہ اب تو گھروں کو لوٹ رہے ہیں سفر سے لوگ سیلاب جنگ زلزلے طوفان آندھیاں سنتے رہے کہانیاں بوڑھے شجر سے لوگ کیا خوب شہرتوں کی ہوس ہے خود اپنے نام لکھنے لگے کتابوں میں اب آب زر سے لوگ

pachhtaa rahe hain dard ke rishton ko toD kar

41 views

غزل · Ghazal

کہوں جو کرب فقط کرب ذات سمجھو گے مگر کبھی تو مری نفسیات سمجھو گے یہ عمر جاؤ بھی دو چار دن کی کیا ہے بساط ابھی کہاں سے غم کائنات سمجھو گے مرا وجود صلہ ہے مری شکستوں کا بگڑ بگڑ کے بنوگے تو بات سمجھو گے ابھی تو جنبش لب پر ہزار پہرے ہیں جو لب کھلے بھی تو کیا دل کی بات سمجھو گے ادھر نہ آؤ اب اس شہر میں اجالوں کے وہ تیرگی ہے کہ دن کو بھی رات سمجھو گے

kahun jo karb faqat karb-e-zaat samjhoge

41 views

Similar Poets