
Aftab Khan
Aftab Khan
Aftab Khan
Ghazalغزل
عجیب دکھ ہے یہ کس رنج میں پڑا ہوں ابھی بچھڑ کے اس سے شش و پنج میں پڑا ہوں ابھی وہ اک گداز بھرا لمس مجھ سے دور ہوا سو اس کے دست اپاہنج میں پڑا ہوں ابھی کوئی نکال کے مجھ کو تراش سکتا ہے میں ایک سنگ کسی گنج میں پڑا ہوں ابھی بٹھا کے ساتھ کوئی گھڑسوار لے جائے میں اک پیادہ ہوں شطرنج میں پڑا ہوں ابھی کسی بھی سود و زیاں کا حساب ہو نہ سکا عجب طرح کے خفی بنج میں پڑا ہوں ابھی
ajiib dukh hai ye kis ranj mein paDaa huun abhi
41 views
وہ جاگتا ہے ابھی تک غنود میں ہے کہاں کمی تھکن کی مگر اس وجود میں ہے کہاں کرے رکوع تو ٹانگوں پہ کپکپی چھائے وہ ولولہ وہ جوانی سجود میں ہے کہاں میں اپنے پاؤں کی مٹی پہ جم کے بیٹھا ہوں جو میرا کنج ہے تیری حدود میں ہے کہاں یہ لطف خاک نشینی بھی عارضی شے ہے کہ مستقل سی بقا ہست و بود میں ہے کہاں میں اپنا کر کے خسارا ہوں مطمئن جیسے وہ نفع مجھ کو ملا تیرے سود میں ہے کہاں سلگ رہا ہے جگر خشک لکڑیوں کی طرح دھواں جو دل سے اٹھا اور دود میں ہے کہاں کرو تلاش مزامیر گم شدہ پھر سے مزا وہ ان سا کسی بھی سرود میں ہے کہاں زمیں سے تا بہ فلک آفتاب چھایا ہے ہنر یہ اور کسی کے وجود میں ہے کہاں
vo jaagtaa hai abhi tak ghunud mein hai kahaan
41 views
نکلا ہوں تن بدن کا برادہ لیے ہوئے لپکی ہے آنکھ آنکھ تماشا لیے ہوئے جانے انہیں ہے دست شناسوں نے کیا کہا پھرتے ہیں لوگ ہاتھ میں کاسہ لیے ہوئے سڑکوں پہ ان دنوں ہے قیامت کا اک سماں سب جا رہے ہیں خواب کا لاشہ لیے ہوئے جنت سے اس لیے ہے نکالا گیا تمہیں پھیلو زمیں پہ نسل توانا لیے ہوئے دو چار اہل ذوق مجھے مل گئے وہاں پہنچا جہاں ادب کا اثاثہ لیے ہوئے دل دار بازوؤں میں سمائے گا لازماً گھر سے چلو جو پختہ ارادہ لیے ہوئے اس بے وفا کی بات کبھی ٹالتا نہیں آئے یہاں ہو جس کا حوالہ لیے ہوئے سنتا ہے آفتابؔ جہاں عشق کی پکار جاتا وہیں ہے دل کا خزانہ لیے ہوئے
niklaa huun tan-badan kaa buraada liye hue
41 views
گھٹا کی موج رواں ہے سیاہ بالوں میں شب سیہ کا دھواں ہے سیاہ بالوں میں وہ آج چھت پہ جو آیا ہے کھول کر گیسو سیاہی خوب عیاں ہے سیاہ بالوں میں کوئی لٹوں کو اگر دیکھ لے گماں ہوگا کہ جیسے ناگ جواں ہے سیاہ بالوں میں گھلی ہوئی ہے فضا میں لطیف سی خوشبو کہ جیسے عطر گلاں ہے سیاہ بالوں میں ٹپک رہی ہے جو زلفوں سے بھیگتی سرگم خمار آب رواں ہے سیاہ بالوں میں زبان شوق نے قصے بہت بیان کیے مگر جو طرز بیاں ہے سیاہ بالوں میں مجھے ہوا ہے یہ اندازہ نرمگیں چھو کر گداز عشق بتاں ہے سیاہ بالوں میں یہ تیرگی تو اماوس میں بھی نہیں ملتی شبیہ ماہ نہاں ہے سیاہ بالوں میں ہیں کس کے دست مقدر میں ریشمی سائے یقین ہے نہ گماں ہے سیاہ بالوں میں ہر ایک رخ سے مکمل شباب ہے ان کا کمی ہی کوئی کہاں ہے سیاہ بالوں میں لپٹ گیا ہے اچانک ہی آفتابؔ ان سے تو سنسنی کا سماں ہے سیاہ بالوں میں
ghaTaa ki mauj ravaan hai siyaah baalon mein
40 views
کچھ نہیں شام سہانی یہ کھلا ہے مجھ پر چار دن کی ہے جوانی یہ کھلا ہے مجھ پر جھوٹ بولوں تو ملامت مجھے کرتا ہے ضمیر پی کے لاہور کا پانی یہ کھلا ہے مجھ پر میں اسے اپنی سمجھتا رہا ممتاز محل وہ تو ہے اور کی رانی یہ کھلا ہے مجھ پر اس نے آغاز محبت میں مجھے سونپ دیا ہجر ہے اس کی نشانی یہ کھلا ہے مجھ پر اب تو احساس و مروت کا زمانہ ہی نہیں مر گیا آنکھ کا پانی یہ کھلا ہے مجھ پر اک حقیقت کا بیاں شعر میں کرنا ہے مجھے اک حقیقت ہے چھپانی یہ کھلا ہے مجھ پر
kuchh nahin shaam suhaani ye khulaa hai mujh par
40 views
اداس کر کے مجھے مسکرا رہی ہو تم کہاں کی اینٹ کہاں اب لگا رہی ہو تم فشار خون تو پہلے بھی کب ہے قابو میں کیوں اس پہ اور دباؤ بڑھا رہی ہو تم گو اختیار کی ہے بے رخی بہت دن سے گداز دل کو مگر گدگدا رہی ہو تم بہت نفیس قرینے ہیں وار کرنے کے فریب حسن کے فتنے جگا رہی ہو تم تمہیں ذرا بھی لگاوٹ نہ وصل سے تھی کبھی سو میرے ہجر میں آنسو بہا رہی ہو تم نہ تم کو فرق ہے معلوم عشق و آتش کا جو آفتابؔ سے نظریں ملا رہی ہو تم
udaas kar ke mujhe muskuraa rahi ho tum
40 views





